بنگلہ دیش میں چھ ماہ کے دوران غذائی اجناس کے ذخائر میں ایک لاکھ 48 ہزار میٹرک ٹن اضافہ

بنگلہ دیش میں موجودہ حکومت کے پہلے چھ ماہ کے دوران غذائی اجناس کے سرکاری ذخائر میں ایک لاکھ 48 ہزار 484 میٹرک ٹن اضافہ ہوا ہے۔ بنگلہ دیش کے سرکاری خبر رساں ادارے بی ایس ایس کے مطابق ملک میں غذائی اجناس کا مجموعی ذخیرہ اب 23 لاکھ 59 ہزار 154 میٹرک ٹن ہے، جو 10 فروری کو 22 لاکھ 10 ہزار 670 میٹرک ٹن تھا۔

وزارت خوراک کے حکام کے مطابق موجودہ ذخائر میں 20 لاکھ 36 ہزار 102 میٹرک ٹن چاول، 2 لاکھ 32 ہزار 183 میٹرک ٹن گندم اور 34 ہزار 70 میٹرک ٹن دھان شامل ہے۔ زیرِ ترسیل یا پراسیسنگ کے مرحلے میں موجود اجناس کو شامل کرنے کے بعد مجموعی سرکاری ذخیرہ 23 لاکھ 59 ہزار 154 میٹرک ٹن بنتا ہے۔

حکومت نے غذائی اجناس ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کا منصوبہ بھی شروع کیا ہے۔ ملک میں ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پہلے تقریباً 24 لاکھ میٹرک ٹن تھی، جسے بڑھا کر 27 لاکھ میٹرک ٹن کر دیا گیا ہے، جبکہ آئندہ پانچ برس میں اسے 34 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔ حکومت نے محفوظ غذائی ذخیرے کا ہدف بھی 13 لاکھ 50 ہزار سے بڑھا کر 16 لاکھ میٹرک ٹن کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران 9 ستمبر تک بورو فصل سے مجموعی طور پر 16 لاکھ 83 ہزار 195 میٹرک ٹن غذائی اجناس خریدی جا چکی ہیں۔ ان میں دھان، ابلے ہوئے چاول اور خشک چاول شامل ہیں، جبکہ گندم کی بھی محدود مقدار خریدی گئی ہے۔

ملکی ضروریات پوری کرنے اور ذخائر مضبوط رکھنے کے لیے درآمدات بھی جاری ہیں۔ یکم جولائی سے 9 ستمبر تک سرکاری اور نجی شعبے کے ذریعے مجموعی طور پر 8 لاکھ 27 ہزار 700 ٹن غذائی اجناس درآمد کی گئیں، جن میں 65 ہزار 860 میٹرک ٹن حکومت اور 7 لاکھ 61 ہزار 840 میٹرک ٹن نجی شعبے نے درآمد کیے۔

فوڈ پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ یونٹ کے ڈائریکٹر جنرل محبوب الرحمٰن کے مطابق اس وقت ملک میں غذائی بحران کا کوئی امکان نہیں اور چاول و گندم کے مناسب ذخائر موجود ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پیداوار، خریداری، درآمدات اور ذخیرہ اندوزی کو ایک مربوط منصوبے کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ بنگلہ دیش میں خوراک کی فراہمی، قیمتوں کے استحکام اور ہنگامی حالات کے لیے مناسب ذخائر یقینی بنائے جا سکیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں