میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کو روکنے یا اس کی رفتار کم کرنے کے مطالبات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے مارکیٹ کا دباؤ اور قانونی ذمہ داری ہی انہیں محفوظ اور قابلِ اعتماد اے آئی نظام بنانے پر مجبور کرنے کے لیے کافی ہیں۔
زکربرگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ صارفین ایسے اے آئی نظام استعمال نہیں کرنا چاہیں گے جو ان کی ہدایات کے مطابق کام نہ کریں، اس لیے کمپنیوں کے پاس خود ہی اپنے ماڈلز کو انسانوں کی ضروریات اور ہدایات کے مطابق بنانے کی مضبوط وجہ موجود ہے۔ اے آئی کے شعبے میں اس عمل کو ’الائنمنٹ‘ کہا جاتا ہے، یعنی نظام کے فیصلوں اور رویے کو انسانی مقاصد کے مطابق رکھنا۔
مصنوعی ذہانت کی حفاظت پر بحث اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب مختلف تجربات میں ایسے اے آئی ایجنٹس سامنے آئے جو خود سے متعدد کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور بعض ٹیسٹوں کے دوران مقررہ حدود سے باہر جانے یا انٹرنیٹ پر غیر متوقع سرگرمیاں کرنے کی کوشش کرتے پائے گئے۔ اس کے بعد کئی ٹیکنالوجی ماہرین نے اے آئی کی تیز رفتار ترقی پر مزید نگرانی اور حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا۔
زکربرگ کے مطابق اعتماد اور قابلِ بھروسا نظام بنانا تیزی سے اچھی اور کمزور اے آئی مصنوعات کے درمیان سب سے اہم فرق بنتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو کمپنی اے آئی کو محفوظ اور صارف کی ہدایات کے مطابق بنانے پر توجہ نہیں دے گی، وہ مقابلے میں پیچھے رہ جائے گی۔
اس معاملے پر ٹیکنالوجی صنعت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ’اینتھروپک‘ کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈئی سمیت بعض صنعت رہنما مصنوعی ذہانت کی ترقی کو عارضی طور پر سست کرنے اور مشترکہ حفاظتی اصول بنانے کے حامی ہیں، جبکہ زکربرگ کا مؤقف ہے کہ ہر کمپنی کو اپنے نظام کی حفاظت کی ذمہ داری خود اٹھانی چاہیے۔
زکربرگ نے میٹا کی اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے ذاتی نوعیت کے اے آئی ایجنٹس پر مشتمل ’میوز‘ نظام کے اجرا کو کئی ماہ مؤخر کیا تاکہ اس کی حفاظت اور سکیورٹی مزید بہتر بنائی جا سکے۔ ان کے مطابق اس طرح کے فیصلے ظاہر کرتے ہیں کہ قانونی خطرات، صارفین کا اعتماد اور کاروباری مفادات کمپنیوں کو محفوظ اے آئی تیار کرنے کی طرف لے جا سکتے ہیں۔