یہ چین-ازبکستان تعلقات کا سنہری دور ہے، چینی سفیر یو جُن

صدر شوکت مرزائیوف کے حالیہ دورہ چین پر تبصرہ کرتے ہوئے ازبکستان میںتعینات چین کے سفیر یو جُن نے کہا کہ چین اور ازبکستان کے تعلقات ‘سنہری دور’ میں داخل ہو چکے ہیں اور اب یہ ترقی کے تیز رفتار مرحلے پر ہیں۔

چینی سفیر کے مطابق، تیانجن اور بیجنگ میں دونوں ملکوں کے سربراہان کی ملاقاتیں اسٹریٹجک شراکت داری کی تاریخ میں ایک اور اہم سنگِ میل ثابت ہوئیں۔ یو جن نے کہا کہ صدر شی جن پنگ اور صدر شوکت مرزائیوف کی اسٹریٹجک رہنمائی میں دوطرفہ تعلقات غیر معمولی رفتار سے ترقی کر رہے ہیں اور اعتماد و تعاون کی نئی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

صدر مرزائیوف کے اس دورے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس اور جاپانی جارحیت کے خلاف جنگ میں چین کی فتح کی 80 ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت شامل تھی۔ سفیر نے زور دیا کہ صدر مرزائیوف کی شرکت نے ازبک-چین تعلقات کی جامع نوعیت کو مزید تقویت دی، تعاون کو نیا محرک فراہم کیا اور بین الاقوامی مسائل پر دونوں ممالک کے مشترکہ مؤقف کو مضبوط بنایا۔

حالیہ دورے کے موقع پر فریقین نے ترجیحی شعبوں میں شراکت داری کو وسعت دینے پر اتفاق کیا، جن میں چین-کرغزستان-ازبکستان ریلوے کی تعمیر، گرین انرجی منصوبے، طبی خدمات، سائنسی تحقیق، ڈیجیٹل معیشت اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے اقدامات شامل ہیں۔ صدر مرزائیوف نے ازبکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے چین کی جامع حمایت پر شکریہ ادا کیا اور تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور علاقائی تعاون کے شعبوں میں حاصل ہونے والے نتائج کو سراہا۔

چینی سفیر یو جن نے آخر میں ایک بار پھر دہرایا کہ پوری یقین دہانی کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ چین اور ازبکستان کے تعلقات سنہری دور میں ہیں اور آج یہ تعاون کی تیز رفتار راہ پر گامزن ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں