عراق میں 75 ہزار سال پرانی انسانی باقیات دریافت، سائنس دانوں نے قدیم انسانوں کی زندگی سے متعلق کیا نیا انکشاف کیا؟

عراق کے نیم خودمختار علاقے کردستان میں واقع ایک قدیم غار سے ملنے والی تقریباً 75 ہزار سال پرانی انسانی باقیات نے سائنس دانوں کو نینڈرتھل انسانوں کی زندگی کے بارے میں نئی معلومات فراہم کی ہیں۔ ہڈیوں کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ اس قدیم انسان کو ممکنہ طور پر نیزے کے مہلک حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا، جبکہ اس کے جسم پر ایک پرانی شدید چوٹ کے آثار بھی موجود تھے جس سے وہ صحت یاب ہو چکا تھا۔

یہ باقیات شمالی عراق کے زاگرس پہاڑی سلسلے میں واقع شانیدار غار سے دریافت ہوئی ہیں۔ محققین نے اس نینڈرتھل کو ’’شانیدار اے‘‘ کا نام دیا ہے، جس کی عمر موت کے وقت تقریباً 45 سال تھی۔ باقیات میں بائیں کندھے کی ہڈی، پسلیاں، تقریباً مکمل دایاں ہاتھ اور سات دانت شامل ہیں۔ محققین اس کی جنس کا تعین نہیں کر سکے۔

سائنسی جریدے سائنٹیفک رپورٹس میں 15 اکتوبر کو شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق کندھے کی ہڈی میں تقریباً 15 ملی میٹر چوڑا سوراخ ملا ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ زخم لکڑی کے نوکیلے نیزے سے لگنے والے طاقتور وار کا نتیجہ تھا۔ نیزہ ممکنہ طور پر سینے میں داخل ہو کر اہم اندرونی اعضا تک پہنچا، جس سے اس قدیم انسان کی موت جلد واقع ہوئی ہوگی۔

برطانوی جامعہ کیمبرج کے ماہرین کے مطابق اس واقعے کی سب سے ممکنہ وجہ نینڈرتھل افراد کے درمیان تشدد ہے۔ یہ جھگڑا ایک ہی گروہ کے افراد یا دو مختلف گروہوں کے درمیان ہو سکتا تھا۔ تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر حملہ آور کی شناخت یا واقعے کی حتمی وجہ بتانا ممکن نہیں۔

تحقیق کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس نینڈرتھل کے دانتوں پر ایک پرانی شدید چوٹ کے نشانات بھی ملے ہیں۔ اس کے سامنے کے کئی دانت ٹوٹ گئے تھے یا اپنی جگہ سے ہٹ گئے تھے، جس سے کھانے پینے میں شدید دشواری ہوئی ہوگی۔ اس کے باوجود وہ اس چوٹ کے بعد کم از کم ایک سال زندہ رہا۔ سائنس دانوں کے مطابق ممکن ہے کہ اس دوران اس کے ساتھیوں نے خوراک تیار کرنے اور روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں اس کی مدد کی ہو۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تحقیق کی سربراہ، جامعہ کیمبرج کی ماہرِ بشریات ایما پومرائے نے کہا کہ اس ایک فرد کی باقیات میں انسانی رویے کے دو متضاد پہلو سامنے آتے ہیں، یعنی تشدد اور دوسروں کی دیکھ بھال۔ ان کے مطابق یہ دریافت اس روایتی تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ نینڈرتھل انسان صرف سخت مزاج اور دوسروں کی پروا نہ کرنے والے غاروں کے باسی تھے۔

شانیدار غار 1950 کی دہائی سے نینڈرتھل انسانوں سے متعلق اہم دریافتوں کا مرکز رہی ہے۔ یہاں مختلف ادوار میں کئی قدیم انسانوں کی باقیات ملی ہیں۔ نئی تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہزاروں سال پہلے زندگی گزارنے والے نینڈرتھل انسانوں کے سماجی تعلقات پیچیدہ تھے اور ان میں باہمی تنازعات کے ساتھ زخمی ساتھیوں کی مدد کرنے کا رجحان بھی موجود ہو سکتا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں