صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم کی سفارش پر چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کے بیرونِ ملک دوروں کی منظوری دیتے ہوئے دونوں کو این او سی جاری کر دیے ہیں۔
پاکستانی اخبار ڈان کے مطابق، ایوانِ صدر سے پیر کی شب جاری بیان میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی برطانیہ، جنوبی کوریا اور جاپان کے دورے کریں گے، جبکہ چیف جسٹس امین الدین خان آذربائیجان میں آئینی عدالتوں کی بین الاقوامی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
ایوانِ صدر کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے غیر ملکی دورے 14 سے 21 اکتوبر اور 27 اکتوبر سے 4 نومبر 2026 تک شیڈول ہیں۔ ان دوروں میں برطانیہ، جنوبی کوریا اور جاپان شامل ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان 19 سے 22 اکتوبر تک آذربائیجان کا دورہ کریں گے، جہاں وہ ترک دنیا کی آئینی عدالتوں اور آئینی اختیارات استعمال کرنے والے اداروں کی تنظیم ’’ترک-آئے‘‘ (TÜRK-AY) کی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق، وفاقی آئینی عدالت کو رواں سال جولائی میں اس تنظیم میں مبصر کی حیثیت سے شامل کیا گیا تھا۔ یہ تنظیم تقریباً چار سال قبل قائم کی گئی تھی اور اس کا مقصد ترک دنیا کے آئینی اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔
سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے ججوں کی رخصت، پنشن اور مراعات سے متعلق بالترتیب 1997 اور 2025 کے قواعد کے رول 14 کے تحت دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس صاحبان کی رخصت منظور کرنے کا اختیار صدرِ مملکت کو حاصل ہے۔ تاہم، اپنی اپنی عدالت کے دیگر ججوں کی رخصت منظور کرنے، مسترد کرنے یا پہلے سے منظور شدہ رخصت محدود یا منسوخ کرنے کا اختیار متعلقہ چیف جسٹس کے پاس ہوتا ہے۔
اس سے قبل اپریل 2025 میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے چین کے شہر ہانگژو میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی سپریم کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی 20ویں کانفرنس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی تھی۔ اسی طرح جون 2026 میں جسٹس امین الدین خان نے روس میں منعقدہ 14ویں سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل لیگل فورم میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔