پاکستان میں بڑھتی آبادی معاشی بوجھ یا ترقی کا موقع؟ وزیر خزانہ نے قومی حکمت عملی پر زور دے دیا

پاکستان کی تیزی سے بڑھتی آبادی کو معاشی ترقی کی طاقت میں کیسے بدلا جا سکتا ہے؟ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس سوال کو ملک کے مستقبل کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبادی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔

بنکاک، تھائی لینڈ میں عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ایک گول میز نشست سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ بڑھتی آبادی کے اثرات صحت، تعلیم اور روزگار سمیت کئی شعبوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اگر بروقت اقدامات کیے جائیں تو یہی آبادی ملک کے لیے معاشی مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے۔

محمد اورنگزیب نے انڈونیشیا، بنگلا دیش اور ایران کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے خواتین کی تعلیم، معاشی سرگرمیوں میں ان کی شمولیت اور بچوں کی پیدائش کے درمیان مناسب وقفے سے متعلق آگاہی کو اہم ترجیحات قرار دیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں مذہبی رہنماؤں کے ساتھ تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں قومی آبادی کونسل قائم کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبادی سے متعلق مسائل حل کرنے کے لیے وفاق اور صوبوں کو مشترکہ لائحہ عمل اپنانا ہوگا، جبکہ مسلسل سیاسی عزم اور نتائج کی پیمائش بھی ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبادی میں اضافے سے معاشی فائدہ اسی وقت حاصل کیا جا سکتا ہے جب نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے ساتھ نجی شعبے کی قیادت میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔

محمد اورنگزیب نے فری لانسنگ، اطلاعاتی ٹیکنالوجی سے متعلق خدمات اور ڈیجیٹل مہارتوں کو نوجوانوں کی آمدنی بڑھانے اور ملکی برآمدات میں اضافے کے اہم ذرائع قرار دیا۔

اب اصل چیلنج یہ ہے کہ آبادی سے متعلق پالیسی کو محض اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے تعلیم، صحت، ہنرمندی اور روزگار کے شعبوں میں ایسے اقدامات میں تبدیل کیا جائے جن کے نتائج عام شہری کی زندگی میں بھی نظر آئیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں