ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا بھر کے ممالک پر بھاری محصولات لگانے کے بعد پیدا ہونے والی عالمی اقتصادی بے یقینی نے پاکستان اسٹاک مارکیٹ کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ چین کی طرف سے امریکا پر جوابی ٹیرف کے اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست مندی دیکھنے میں آئی اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں 6 ہزار 153 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
اسٹاک مارکیٹ کی ویب سائٹ کے مطابق، صبح 11 بج کر 57 منٹ پر کے ایس ای 100 انڈیکس 6 ہزار 153 پوائنٹس یا 5.46فیصد کی کمی کے بعد 1 لاکھ 12 ہزار 504 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا، جو صبح 10 بجے کے لگ بھگ 1 لاکھ 18 ہزار 791 پر موجود تھا۔
اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ، اویس اشرف کے مطابق، یہ کمی سرمایہ کاروں کے اس خوف کا نتیجہ ہے کہ، امریکی ٹیرف سے عالمی سطح پر طلب میں کمی ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی کساد بازاری پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ، چونکہ پاکستان ایک درآمدات پر انحصار کرنے والی معیشت رکھتا ہے، اس لیے اجناس کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان کو کچھ فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔
چیس سیکیورٹیز کے، یوسف ایم فاروق کا کہنا ہے کہ، ایشیائی مارکیٹوں میں بھی بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے، اور پاکستان کی مارکیٹ میں 2.5 فیصد کی کمی دیگر ملکوں کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔ ان کے مطابق، تیل اور بینکنگ اسٹاکس پر خاصا دباؤ رہا، جب کہ ٹیکسٹائل برآمدکنندگان کو امریکی ٹیرف سے خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ، اگرچہ یہ پالیسی ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے قلیل مدتی چیلنجز ضرور پیدا کرے گی، مگر عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں کمی پاکستان میں افراط زر کو کم کر سکتی ہے، جس سے شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اس سے ویلیوایشن کی بتدریج بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔
اس تناظر میں انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ، وہ عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات پر محصولات ختم کرانے کے لیے فوری سفارتی کوششیں شروع کرے۔
اسی دوران ایشیائی مارکیٹیں بھی شدید مندی کی لپیٹ میں آگئیں۔ ہانگ کانگ میں 10 فیصد، ٹوکیو میں 8 فیصد، تائی پے میں 9 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی، جب کہ شنگھائی، سیئول، سڈنی، منیلا اور ممبئی کی مارکیٹیں بھی گہرے سرخ رنگ میں ڈوب گئیں۔
وال اسٹریٹ میں تینوں اہم انڈیکس (ڈاؤ جونز، ایس اینڈ پی 500، نیسڈک) میں بھی تقریباً 6 فیصد کی گراوٹ دیکھنے میں آئی۔ تیل کی قیمتیں بھی 3 سے 7 فیصد گر گئیں اور 2021 کے بعد کم ترین سطح پر پہنچ گئیں، جب کہ تانبے جیسی دیگر اہم اجناس بھی متاثر ہوئیں۔
چین نے بھی بھرپور ردِعمل دیا۔ اس نے 10 اپریل سے تمام امریکی مصنوعات پر 34 فیصد کا جوابی ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ان سات قیمتی معدنی عناصر پر بھی برآمدی کنٹرول عائد کر دیا ہے جو جدید ٹیکنالوجی مصنوعات کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔
ٹرمپ کی جانب سے پالیسی میں کسی نرمی کے امکانات اس وقت دم توڑ گئے جب انہوں نے واضح کیا کہ، جب تک تجارتی خسارہ ختم نہیں ہوتا، وہ کسی بھی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔
موڈیز، ایس پی آئی، اور کے سی ایم ٹریڈ جیسے عالمی اداروں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ، اگر امریکا کساد بازاری کی لپیٹ میں آتا ہے، تو چین اور دیگر عالمی معیشتیں بھی متاثر ہوں گی۔ ایسے میں تاجر خوفزدہ ہیں کہ، دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں تجارتی محاذ آرائی میں ایک دوسرے کو طویل معاشی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
امریکی فیڈرل ریزرو کے سربراہ، جیروم پاول نے اعتراف کیا ہے کہ، ٹیرف افراط زر کو بڑھا سکتے ہیں اور شرح نمو میں سستی لا سکتے ہیں، مگر اس کے باوجود انہوں نے شرح سود کم کرنے سے انکار کیا ہے، جس سے مارکیٹ میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔