ٹرمپ کا 1798 کا ایلین اینیمیز ایکٹ نافذ کرنے کا فیصلہ، وینزویلی شہریوں پر سخت اقدامات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 1798 کے متنازع ایلین اینیمیز ایکٹ کو نافذ کرتے ہوئے وینزویلا کی مبینہ دہشت گرد تنظیم Tren de Aragua (TdA) کے خلاف کارروائی کا عندیہ دے دیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس فیصلے کا مقصد امریکی سرزمین پر غیر ملکی عناصر کے ممکنہ خطرات کا سدباب کرنا ہے، تاہم اس اقدام نے انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

ٹرمپ کے اس اعلان سے چند روز قبل ایک وفاقی جج نے حکم جاری کیا تھا کہ مذکورہ قانون کو وینزویلا کے پانچ شہریوں کی بے دخلی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، مگر صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کو نظرانداز کرتے ہوئے قانون کو وسیع پیمانے پر نافذ کرنے کا عندیہ دے دیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق، ایلین اینیمیز ایکٹ کو عام طور پر جنگی حالات میں نافذ کیا جاتا ہے، اور یہ حکومت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ دشمن ممالک کے شہریوں اور مخصوص گروہوں کو بغیر کسی عدالتی کارروائی کے گرفتار یا ملک بدر کر سکے۔ اس سے قبل اس قانون کو 1812 کی جنگ، جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم کے دوران نافذ کیا جا چکا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے نئے اعلامیے کے مطابق، وہ تمام وینزویلی شہری جن کی عمر 14 سال یا اس سے زائد ہو، جو Tren de Aragua کے رکن ہوں، امریکا میں موجود ہوں اور قانونی طور پر مستقل شہریت نہ رکھتے ہوں، انہیں گرفتار کیا جا سکے گا اور ملک سے نکالا جا سکے گا۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں امیگریشن پالیسیوں پر شدید بحث جاری ہے، اور ٹرمپ کے سخت گیر اقدامات کو سیاسی مخالفت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں