ٹرمپ کا دعویٰ: پاک‑بھارت جنگ تجارت سے روکی گئی، بھارت کے 7 نئے طیارے گر چکے تھے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے جاپان کے دورے کے دوران کہا ہے کہ انہوں نے پاک‑بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ کو تجارت کے ذریعے روکا۔ ٹرمپ کے بقول حالات بہت نازک تھے اور دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ جب تک انہیں مناسب اشارہ نہ دیا جاتا جنگ شروع ہو سکتی تھی۔

صدر ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ اس دوران بھارت کے سات بالکل نئے طیارے گرائے جا چکے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی، پاکستان کے وزیراعظم اور ایک فیلڈ مارشل سے رابطہ کیا اور انہیں سختی سے سمجھایا کہ تصادم سے باز رہیں۔ ان کے بقول رابطے اور گفت و شنید کے نتیجے میں صورتِ حال 24 گھنٹوں کے اندر کنٹرول میں آگئی اور کسی وسیع جنگ سے بچا لیا گیا۔

صدرٹرمپ نے دونوں ممالک کی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں بڑی ایٹمی طاقتیں ہیں اور کسی بھی فوجی تصادم کے تباہ کن نتائج پورے خطے پر مرتب ہو سکتے تھے۔ اسی بنیاد پر ان کا مؤقف تھا کہ مسئلے کو سفارتی اور تجارتی راستوں سے حل کرانا ضروری تھا تاکہ جان و مال کا نقصان روکا جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے ملاقاتوں کے دوران ان رہنماؤں کی تعریف بھی کی اور کہا کہ وہ سب “بہت اچھی شخصیات” ہیں جن کے ساتھ رابطے اور مذاکرات ممکنہ بحران کو ٹھنڈا کر نے میں مددگار ثابت ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سخت پیغامات اور واضح سمت دینے سے فریقین نے نرم رویہ اپنایا اور معاملہ افہام و تفہیم سے نمٹ گیا۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب عالمی برادری میں جنوبی ایشیا کی استحکام اور خطے میں ایٹمی طاقتوں کے درمیان تصادم کے خطرات پر تشویش پائی جاتی ہے۔صدر ٹرمپ کے دعوے نے مقامی اور بین الاقوامی مبصرین کی توجہ پھر سے اس جانب مبذول کر دی ہے کہ بڑے طاقتوں کے مداخلت یا ثالثی کے دعوے کس حد تک حقیقت پر مبنی ہیں اور ان کا علاقائی سیاست پر کتنا اثر ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں