امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے چار روزہ دورے کے آغاز پر سعودی عرب کے دارالحکومت، ریاض پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کی سعودی ولی عہد اور ملک کے عملی حکمران محمد بن سلمان سے اہم ملاقات طے ہے۔
ریاض کے ہوائی اڈے پر سعودی ولی عہد، محمد بن سلمان نے امریکی صدر کا استقبال کیا، اس موقع پر صدر ٹرمپ کو سعودی روایات کے مطابق قہوہ بھی پیش کیا گیا۔

صدر ٹرمپ منگل کی صبح ریاض پہنچے، جو ان کے اس غیر ملکی دورے کا پہلا پڑاؤ ہے۔ اس دورے کے دوران وہ قطر اور متحدہ عرب امارات کا بھی دورہ کریں گے۔
یہ صدر ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد پہلا بڑا بین الاقوامی دورہ ہے، جس کا مرکزی نقطہ مشرق وسطیٰ کی تیل سے مالا مال معیشتوں کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنا اور نئی سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، اس دورے کے دوران صدر ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان متعدد اہم امور پر بات چیت متوقع ہے، جن میں ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کی امریکی کوششیں، غزہ میں جاری جنگ کا خاتمہ، تیل کی عالمی قیمتوں کو مستحکم رکھنا اور خطے کی مجموعی سلامتی جیسے معاملات شامل ہیں۔