ٹرمپ انتظامیہ کا حماس کی حمایت کرنیوالے طلبہ کے ویزے منسوخ کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ انتظامیہ نے حماس کی حمایت کرنے والے غیرملکی طلبہ کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی کی جائے گی اور مشتبہ سرگرمیوں پر ان کے ویزے منسوخ کیے جائیں گے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق، امریکی حکام فلسطین کی حمایت میں سرگرم طلبہ پر کڑی نظر رکھ رہے ہیں اور انہیں داخلی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کرتے ہوئے سخت پالیسی اختیار کر رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد تعلیمی اداروں میں جاری مظاہروں کو روکنا اور اسرائیلی حامی طلبہ کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
دوسری جانب، امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینیوں کے حق میں مظاہروں کی آماجگاہ سمجھی جانے والی کولمبیا یونیورسٹی کی 400 ملین ڈالر کی وفاقی گرانٹ منسوخ کر دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یونیورسٹی یہودی طلبہ کو ہراساں کیے جانے سے باز رکھنے میں ناکام رہی ہے، اور یہ گرانٹ کی منسوخی کا پہلا مرحلہ ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے، جو بعد ازاں مختلف امریکی جامعات تک پھیل گئے۔ ان مظاہرین نے اسے آزادی اظہار کا حصہ قرار دیا تھا، تاہم امریکی حکومت کی جانب سے اسے سکیورٹی خدشات اور تعلیمی اداروں میں عدم تحفظ کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں