ٹرمپ انتظامیہ نے مائیکروسافٹ سمیت آٹھ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے گرین کارڈ سے متعلق درخواستوں پر کارروائی روک دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مائیکروسافٹ، ایڈوب اور چھ دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ملازمت کی بنیاد پر گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل سے متعلق درخواستوں پر کارروائی معطل کر دی ہے۔ حکومت نے ہارورڈ، ییل اور اسٹینفرڈ سمیت نو معروف امریکی یونیورسٹیوں کے خلاف بھی ویزوں کے ممکنہ غلط استعمال کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ویزا نظام میں مبینہ دھوکہ دہی روکنا اور امریکی شہریوں کے روزگار کا تحفظ کرنا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ محنت نے جمعرات، 8 اکتوبر کو اعلان کیا کہ مائیکروسافٹ، ایڈوب، کاگنیزنٹ، انفوسس، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، وپرو، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز اور کیپ جیمینی سے متعلق مستقل لیبر سرٹیفکیشن کی نئی درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی، جبکہ پہلے سے زیرِ التوا درخواستوں پر بھی کارروائی روک دی جائے گی۔ یہ سرٹیفکیشن، جسے PERM کہا جاتا ہے، ملازمت کی بنیاد پر امریکی مستقل رہائش حاصل کرنے کے ایک اہم عمل کا حصہ ہے۔ اس میں کمپنیوں کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ غیر ملکی ملازم کی بھرتی سے امریکی کارکنوں کی ملازمتوں اور تنخواہوں پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مائیکروسافٹ پر ویزا نظام کے مبینہ غلط استعمال کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے گزشتہ سال چھ ہزار امریکی ملازمین کو فارغ کیا، جبکہ اسے تقریباً چھ ہزار 300 ایچ ون بی ویزوں اور تین ہزار کے قریب گرین کارڈز سے فائدہ پہنچا۔ دوسری جانب مائیکروسافٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ مالی سال میں اس کی تقریباً 80 فیصد ایچ ون بی درخواستیں نئے ملازمین کی بھرتی کے بجائے پہلے سے کام کرنے والے ملازمین کے ویزوں میں توسیع یا ان کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے سے متعلق تھیں۔ کمپنی کے مطابق وہ ایچ ون بی ویزا رکھنے والے ملازمین کو یکساں نوعیت کی ملازمت کرنے والے دیگر کارکنوں کے برابر تنخواہ دیتی ہے۔

امریکی انتظامیہ نے نو یونیورسٹیوں کے خلاف بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جن میں ہارورڈ، ییل، اسٹینفرڈ، براؤن اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق تحقیقات میں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ آیا ایکسچینج وزیٹر ویزوں کے غلط استعمال، غیر ملکی اثر و رسوخ یا نامناسب مالی تعلقات کے ذریعے امریکی ملازمین کی اجرتوں اور وفاقی فنڈنگ سے جاری تحقیق کو متاثر کیا گیا ہے۔ امریکی کونسل آن ایجوکیشن کی نائب صدر سارہ سپرائٹزر نے خبردار کیا کہ ایسی پالیسیوں کے وسیع معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی طلبہ تاریخی طور پر امریکی معیشت میں سالانہ تقریباً 40 ارب ڈالر خرچ کرتے رہے ہیں۔

یہ اقدامات ٹرمپ انتظامیہ کی سخت ہوتی ہوئی امیگریشن پالیسیوں کا حصہ ہیں۔ گزشتہ سال حکومت نے بیرونِ ملک سے بھرتی کیے جانے والے کارکنوں کی نئی ایچ ون بی درخواستوں پر ایک لاکھ ڈالر کی یک وقتی فیس عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ محکمہ محنت نے ’پروجیکٹ فائر وال‘ کے نام سے کارروائیاں شروع کی تھیں۔ حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت تقریباً 200 مقدمات یا تحقیقات شروع کی جا چکی ہیں اور لاکھوں ڈالر کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔ امریکی نائب صدر نے واضح کیا ہے کہ متعلقہ کمپنیوں کی درخواستوں پر پابندی اس وقت تک برقرار رہ سکتی ہے جب تک انتظامیہ اسے ضروری سمجھے۔

اپنا تبصرہ لکھیں