لاہور کی شامیں خوشگوار چل رہی ہیں اور آج تو ایسا لگتا ہے کہ ان ہواؤں کا کوئی جھونکا مفتی الثقلین، علامہ عمر النسفی کے شہر سے ہو کر آیا ہے۔ کیونکہ آج پاکستان کے منتخبِ روزگار مخطوطہ شناس اور جنوبی ایشیاء کی علمی تاریخ و مخطوطات اور فارسی زبان و ادبیات و تصوف کے دنیا بھر میں جانے مانے ماہر و نمائندہ ، جنابِ ڈاکٹر عارف نوشاہی صاحب کی ایک کتاب کی فہرست نظر آئی جس میں سب سے پہلا تحقیقی مقالہ علامہ نسفی کی ایک عربی و فارسی تصنیف مطلع النجوم و مجمع العلوم کے مخطوطے کے تعارف پر لکھا گیا ہے۔ فورا ہی ادھر اردو بازار میں پیغام بھیجا کہ جیسے بھی ممکن ہو یہ کتاب کسی کے ہاتھ ابھی بھجوا دیں، کل پرسوں تک انتظار نہیں ہو سکتا۔ اور ادھر انٹرنیٹ سے اصل کتاب کے بارے میں سن گن لینا شروع کر دی۔ لیجیے ادھر سے پہلے نمبر پر تو یہ بات معلوم ہوئی کہ مصر کی منوفیہ یونیورسٹی سے بھی اس مخطوطے پر ایک مقالہ 2016 میں لکھا جا چکا ہے۔ دوسرا مقالہ فارسی زبان میں نظر آیا جو دراصل نوشاہی صاحب کا ہی لکھا ہوا ہے، آج انہوں نے فون پر بتایا کہ وہ میرے اردو مقالے کا ہی فارسی ترجمہ ہے جو ایران میں کیا گیا اور میری نظر ثانی کے بعد شائع ہوا۔
نوشاہی صاحب کو اس مخطوطے کے ملنے کا واقعہ کسی دلچسپ داستان سے کم نہیں ہے۔ پہلے پہل انہوں نے اس کا تذکرہ ایک مضمون میں پڑھا جو علامہ نسفی کے بارے میں پون صدی قبل لکھا گیا تھا۔ اس مضمون میں مخطوطے کے اس نسخے کو بنیاد بنایا گیا تھا جو ہند کے شہر رامپور کی رضا لائبریری میں موجود ہے۔ لیکن یہ نسخہ کئی مقامات سے ناقص تھا اور کتابت بھی زیادہ صاف نہیں بتائی گئی تھی تاہم پھر بھی انہیں اس مخطوطے کے دیکھنے کی خواہش رہی۔
جب نوشاہی صاحب 2018 میں ایک کانفرنس کے سلسلے میں تاشقند گئے تو وہاں کے ابوریحان البیرونی مرکزِ مخطوطاتِ شرقیہ کے لیے کچھ مطبوعات ساتھ لیتے گئے۔ اس مرکز کے نائب مدیر نے رخصت کرتے وقت ان کو ایک کتاب کا تحفہ دیا جس کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئے کہ یہ مطلع النجوم کا مطبوعہ نسخہ تھا۔ مزید حیرت اس بات پر ہوئی کہ ان کو گزشتہ دو دن سے جو صاحب اپنی گاڑی میں تاشقند کی سیر کروا رہے تھے، وہی اس مخطوطے کے محقق تھے لیکن انہوں نے دو روز کی ہم سفری میں نوشاہی صاحب سے اپنے اس عظیم کارنامے کا ذکر تک نہیں کیا۔ یوں ایک مہمان اور مندوب ہونے کی وجہ سے نوشاہی صاحب کو جہاں یہ معلوم ہو گیا کہ مطلع النجوم کا ایک مخطوطہ تاشقند میں بھی موجود ہے وہیں وہ مخطوطہ بھی حاصل ہو گیا، یعنی نوشاہی صاحب کے بقول پکا ہوا پھل ان کی جھولی میں آن گرا۔
اس کے بعد ان کو یہ خواہش ہوئی کہ رضا لائبریری رامپور والے نسخے کا عکس حاصل کرنے کی پھر سے کوشش کرنی چاہیے۔ اب کی بار اس مخطوطے کا مکمل عکس فراہم ہو گیا اور نوشاہی صاحب کے بقول ‘اس نسخے کا حصول ناممکن ہوتا اگر مخطوطات کے قدر شناس ان کے ایک دوست رضا لائبریری کے ڈائریکٹر نہ بنتے۔
لیجیے اب اس کے بعد کوئی نوشاہی صاحب کی تحقیق کی جولانیاں دیکھے تو دیکھتا ہی رہ جائے۔ انہوں نے رامپور اور تاشقند کے دونوں نسخوں کا تقابل کر کے جو رائے دینی تھی وہ تو دی ہی ہے کہ تاشقند کا نسخہ نسبتا زیادہ بہتر حالت اور اچھی کتابت میں ہے اور مکمل بھی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک ایک صفحے بلکہ سطر سطر کا حساب کرتے ہیں۔ نہیں بلکہ لفظ لفظ کا تعارف کرواتے ہیں کہ کونسا لفظ فارسی زبان میں علامہ نسفی کے زمانے میں کیسے لکھا جاتا تھا اور اب اس کی املا کیا ہے ، بلکہ یہاں پر بھی بس نہیں، وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ کس لفظ پر کتنے نقطے زیادہ ہیں اور کیوں ہیں اور یہ لفظ اس حالت میں فارسی میں کس زمانے میں رائج رہا اور کس نے کیسے برتا۔ علاوہ ازیں علامہ نسفی نے فارسی نظم و نثر کے جو نمونے پانچویں یا چھٹی صدی میں اس کتاب میں جمع کیے ان کی بعد کی روایتوں کے ساتھ تقابل بھی کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ان فارسی دواوین کی ترتیب کے وقت علامہ نسفی کی اس کتاب کو سامنے رکھنا ناگزیر ہو گا کہ اس میں ان اشعار کی وہ روایتیں موجود ہیں جو پانچویں یا چھٹی صدی میں علامہ نسفی کو دستیاب تھیں۔ اس کے علاوہ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ فارسی نظم و نثر کا اتنا قدیم نمونہ اپنی قدامت کے لحاظ سے بھی فارسی والوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے کہ یہ اس زبان کے اولین دستیاب نمونوں میں سے ہے۔ مزید یہ کہ اس میں علامہ نسفی کی اپنی فارسی نظم و نثر کے بھی عمدہ نمونے موجود ہیں جن سے ان کی یہ حیثیت بھی نکھر کر سامنے آتی ہے۔ نوشاہی صاحب کی بےمثال اور قابلِ رشک تحقیق و جستجو اور وسعتِ مطالعہ سے تو یہ بات بھی پوشیدہ نہیں رہی کہ اس نسخے کے کتنے صفحے کس کاتب نے کس شہر کی کونسی مسجد میں بیٹھ کر لکھے اور جس نسخے سے دیکھ کر کتابت کی گئی وہ علامہ نسفی کا از خود املا کروایا ہوا نسخہ تھا اور ان کے بیٹے کا نسخہ تھا یا کسی شاگرد کا۔ کس نسخے کا مالک پہلے کون تھا اور اس سے کس نے خریدا اور کب خریدا اور پھر کہاں سے کہاں پہنچا اور کبھی ماوراء النہر سے باہر کے کسی شخص کے ہاتھ بھی لگا یا نہیں۔ الغرض یہ مقالہ پڑھ کر یقین ہو جاتا ہے کہ دنیا ایسے ہی نوشاہی صاحب کو اس عہد کا بڑا مخطوطہ شناس اور فارسی دان نہیں مانتی۔
لیکن جیسا کہ ڈاکٹر خورشید رضوی نے کہا ہے:
جس پھول کو دیکھوں یہی لگتا ہے کہ اس میں
اک رنج بھی رہتا ہے مسرت کے علاوہ
تو اسی طور یہاں پر بھی ایک رنج کی بات موجود ہے، اور وہ یہ کہ علامہ نسفی کی اس کتاب کا ایک بڑا حصہ عربی زبان میں ہے بلکہ بعض قدیم عربی متون من و عن بھی شامل کیے گئے ہیں۔ نوشاہی صاحب نے فارسی کی حد تک بات کرنے کا حق ادا کر دیا ہے اور کیسا کمال دکھایا ہے۔ لیکن عربی والے حصے پر شاید ابھی اس نوعیت کا کام سامنے نہیں آیا۔
امید افزا بات یہ ہے کہ کچھ دیر قبل نوشاہی صاحب کو فون پر جب یہ بتایا کہ تاشقند سے اس مخطوطے کے اشاعت کے اگلے ہی سال مصر کی منوفیہ یونیورسٹی میں اس پر عربی میں مقالہ لکھا گیا ہے اور اس میں بھی نسخۂ تاشقند کو بنیاد بنایا گیا ہے تو بہت حیران ہوئے اور اس مخطوطے پر کام کرنے کے سلسلے میں اس مقالے کی کاپی بھی طلب فرمائی جو ان کو فراہم کر دی گئی ہے۔
اب آپ پوچھیں گے کہ علامہ نسفی کی اس کتاب میں ہے کیا؟ تو اس کے لیے اگلی قسط کا انتظار کیجیے جس میں عرب محقق کی گفتگو کا خلاصہ بھی بیان ہو گا، ان شاء اللہ تعالی۔
تعارف:
احمد تراث تقریبا ڈیڑھ دہائی سے عربی زبان و ادب سے وابستہ ہیں۔ مختلف ممالک میں اسلامی و عربی علوم و فنون کے مراکز اور شخصیات پر تحقیق و تحریر سے بھی خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔