سشانت سنگھ راجپوت کیس بند ہو گیا، ریا چکرورتی بے گناہ ثابت

بالی وُڈ اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی پراسرار موت کے تقریباً پانچ سال بعد بھارت کی مرکزی تحقیقاتی ایجنسی سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے کیس کو باضابطہ طور پر بند کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔ سی بی آئی نے اپنی تفتیش میں سشانت کی موت کو خودکشی قرار دیتے ہوئے اداکارہ ریا چکرورتی اور ان کے اہلخانہ کو بے گناہ قرار دے دیا۔

34 سالہ سشانت سنگھ راجپوت 14 جون 2020 کو ممبئی کے باندرہ علاقے میں اپنے فلیٹ میں مردہ پائے گئے تھے۔ ان کی موت کے فوراً بعد بالی وُڈ اور ان کے مداحوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، اور مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔ کیس نے اس وقت شدت اختیار کی جب سشانت کے والد کے کے سنگھ نے پٹنہ میں ریا چکرورتی اور ان کے خاندان کے خلاف ایف آئی آر درج کرواتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے سشانت کو ذہنی طور پر پریشان کیا، مالی استحصال کیا اور بالآخر خودکشی پر مجبور کر دیا۔

اگست 2020 میں سی بی آئی نے اس کیس کی تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ دورانِ تفتیش ایجنسی نے فرانزک شواہد جمع کرنے کے لیے سینٹرل فارنزک سائنس لیبارٹری (سی ایف ایس ایل) کی مدد لی، جس میں سشانت کا لیپ ٹاپ، ہارڈ ڈسک، ایک ڈی ایس ایل آر کیمرہ اور دو موبائل فونز کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔

مزید برآں، آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کی فارنزک ٹیم نے بھی اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ سشانت کی موت قتل نہیں بلکہ خودکشی کا نتیجہ تھی۔

سی بی آئی کی تفصیلی تحقیقات میں کسی بھی ایسے شواہد کا پتہ نہیں چلا جو اس بات کی تصدیق کر سکیں کہ کسی فرد نے سشانت کو خودکشی پر مجبور کیا ہو۔ اس بنیاد پر سی بی آئی نے اپنی کلوزر رپورٹ عدالت میں پیش کر دی، جس میں واضح طور پر کہا گیا کہ ریا چکرورتی اور ان کے اہلخانہ کسی بھی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث نہیں پائے گئے۔

سی بی آئی کی جانب سے کلوزر رپورٹ جمع کرائے جانے کے بعد باندرہ کی مجسٹریٹ عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 8 اپریل کو مقرر کی ہے۔ اگر عدالت رپورٹ کو قبول کر لیتی ہے تو یہ کیس ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے گا۔

مداحوں کے لیے ادھورا انصاف؟
سشانت سنگھ راجپوت کی اچانک موت نے پورے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اس کیس نے بالی وُڈ کے اندرونی معاملات، اقربا پروری اور ذہنی صحت جیسے اہم موضوعات پر بحث کو جنم دیا۔ حالانکہ سی بی آئی کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں، مگر ان کے مداح اور اہلخانہ آج بھی کئی سوالوں کے جوابات کے متلاشی ہیں۔

یہ فیصلہ یقیناً کیس کو قانونی طور پر ختم کر دے گا، مگر سشانت کے چاہنے والوں کے لیے یہ ایک ایسا باب ہے جو شاید کبھی مکمل طور پر بند نہ ہو سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں