وزیراعظم شہباز شریف رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جائیں گے، جہاں وہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کریں گے۔
وزیراعظم 25 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ اس موقع پر امریکا ایران تنازع، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور خطے میں امن و استحکام جیسے معاملات عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز رہنے کی توقع ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اس فورم پر اپنا یہ مؤقف دہرائے گا کہ موجودہ تنازع کا حل طویل فوجی محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
وزیراعظم اپنے خطاب میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ پاکستان کے رابطوں اور سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کریں گے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اعلیٰ سطحی بحث 22 ستمبر سے شروع ہوگی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے روز خطاب کریں گے، جبکہ ایران کو 23 ستمبر کے مقررین کی عبوری فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی شرکت کی ابھی حتمی تصدیق نہیں ہوئی۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو 24 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، جبکہ بھارت کی نمائندگی اس کے وزیر خارجہ کریں گے۔
پاکستان کے لیے امریکا ایران تنازع اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ خطے میں مزید کشیدگی کے اثرات توانائی، معیشت اور سلامتی کے معاملات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ وزیراعظم کے دورے کے دوران مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔