پاکستانی بلے باز سعود شکیل نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں قومی ٹیم کی مسلسل بیٹنگ ناکامیوں کی ایک وجہ مشکل حالات کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گیند کی غیر معمولی موومنٹ نے بلے بازی کو مزید مشکل بنا دیا، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستانی بلے بازوں کو اپنی غلطیوں کی ذمہ داری بھی قبول کرنا ہوگی۔
انگلینڈ میں تیسرے ٹیسٹ کے پہلے روز پاکستان کی پوری ٹیم صرف 133 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ یہ مسلسل پانچویں اننگز ہے جس میں پاکستان 200 رنز تک نہیں پہنچ سکا۔ جواب میں انگلینڈ نے دن کے اختتام تک چار وکٹوں کے نقصان پر 156 رنز بنا کر 23 رنز کی برتری حاصل کرلی۔
پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ 43 رنز بنانے والے سعود شکیل نے کھیل کے بعد کہا کہ ابتدائی دو ٹیسٹ اور ایجبسٹن میں بلے بازی کے حالات توقع سے زیادہ مشکل رہے ہیں۔ ان کے مطابق رواں سال انگلینڈ میں نیوزی لینڈ کو ملنے والی پچز کے مقابلے میں پاکستان کے خلاف گیند میں زیادہ موومنٹ دیکھنے کو ملی اور پاکستانی کھلاڑی ایسی کنڈیشنز کے زیادہ عادی نہیں ہیں۔
پاکستان کی اننگز کا آغاز انتہائی خراب رہا اور ابتدائی 10 اوورز میں صرف 26 رنز پر چار کھلاڑی آؤٹ ہوگئے۔ صائم ایوب، اذان اویس، عبداللہ شفیق اور شان مسعود جلد پویلین لوٹ گئے، جبکہ کپتان بابر اعظم بھی سات رنز بنا سکے۔ سعود شکیل کے مطابق پچ میں ابتدائی طور پر نمی موجود تھی اور ابر آلود موسم انگلش بولرز کے لیے مددگار ثابت ہوا، تاہم بعد میں بیٹنگ نسبتاً آسان ہوگئی۔
سعود شکیل نے واضح کیا کہ صرف حالات کو پاکستان کی خراب بیٹنگ کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی بلے باز ایک ہی غلطی بار بار دہرا رہے ہیں اور وکٹیں وقفے وقفے سے گرنے کے بجائے ایک ساتھ گنوا رہے ہیں۔ انہوں نے اس خیال کو بھی مسترد کیا کہ کھلاڑیوں کی فرنچائز لیگز میں زیادہ شرکت ٹیسٹ کرکٹ میں خراب کارکردگی کی بنیادی وجہ ہے۔
پاکستان کے لیے پہلے روز مثبت پہلو 21 سالہ فاسٹ بولر رضاع اللہ کی کارکردگی رہی، جنہوں نے اپنے ٹیسٹ ڈیبیو پر دو وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے جو روٹ کو آٹھ رنز پر آؤٹ کرنے کے بعد ایمیلیو گے کی وکٹ بھی حاصل کی اور نو اوورز میں 42 رنز دے کر دو وکٹوں کے ساتھ دن کا اختتام کیا۔ سعود شکیل کے مطابق پاکستان کو ایسے تیز رفتار بولرز کی ضرورت ہے جو مسلسل 90 میل فی گھنٹہ کے قریب رفتار سے بولنگ کرسکیں۔
انگلینڈ ایک موقع پر 39 رنز پر تین وکٹیں گنوا چکا تھا، تاہم ہیری بروک اور ایمیلیو گے نے چوتھی وکٹ کے لیے 104 رنز کی شراکت قائم کرکے میزبان ٹیم کو سنبھالا دیا۔ گے 60 رنز بنا کر رضاع اللہ کا شکار ہوئے جبکہ بروک 52 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ انگلینڈ کی جانب سے جوش ٹنگ نے چار جبکہ اولی رابنسن اور جوفرا آرچر نے تین، تین وکٹیں حاصل کیں۔
سعود شکیل کا کہنا ہے کہ پاکستان اب بھی میچ میں واپسی کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر پاکستانی بولرز دوسرے روز صبح انگلینڈ کی باقی وکٹیں جلد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو قومی ٹیم کے پاس مقابلے میں واپس آنے کا اچھا موقع موجود ہوگا۔