ایک نئی عالمی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارت میں تقریباً 44 کروڑ 40 لاکھ افراد دوسروں کی سگریٹ یا تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والے دھوئیں، یعنی سیکنڈ ہینڈ اسموک، کی زد میں ہیں۔ تحقیق کے مطابق 2023 میں دنیا بھر میں تقریباً 2.71 ارب افراد اس دھوئیں سے متاثر ہوئے، جن میں 76 کروڑ 70 لاکھ بچے بھی شامل تھے۔
بین الاقوامی طبی جریدے دی لانسیٹ پبلک ہیلتھ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق چین، بھارت اور انڈونیشیا میں مجموعی طور پر دنیا کے سیکنڈ ہینڈ اسموک سے متاثر افراد کا تقریباً نصف حصہ موجود تھا۔ چین میں 66 کروڑ 40 لاکھ، بھارت میں 44 کروڑ 40 لاکھ اور انڈونیشیا میں 14 کروڑ 20 لاکھ افراد اس دھوئیں سے متاثر ہوئے۔
تحقیق میں بھارت کے لیے صحت کے سنگین اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔ 2023 میں بھارت میں سیکنڈ ہینڈ اسموک سے منسلک 3 لاکھ سے زائد اموات کا تخمینہ لگایا گیا، جو 1990 کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ ہیں۔ اس کے باعث بھارت میں بیماری، معذوری یا قبل از وقت موت کی وجہ سے صحت مند زندگی کے 90 لاکھ سے زائد سال بھی ضائع ہوئے۔
تحقیق میں 1990 سے 2023 تک 204 ممالک اور خطوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ سیکنڈ ہینڈ اسموک سے دل کی بیماریوں، بعض اقسام کے کینسر، پھیپھڑوں کی دائمی بیماری، سانس کے انفیکشن، ٹائپ 2 ذیابیطس اور دمہ سمیت مختلف بیماریوں کے خطرات کا جائزہ لیا گیا۔ مجموعی طور پر دل کی بیماری کو اس دھوئیں سے ہونے والے صحت کے نقصان کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا گیا۔
خواتین اور بچوں کو اس مسئلے سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ تحقیق کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا، مشرقی ایشیا اور اوشیانا میں خواتین کے سیکنڈ ہینڈ اسموک سے متاثر ہونے کا امکان مردوں کے مقابلے میں 59 فیصد زیادہ تھا۔ بچوں میں اس دھوئیں سے منسلک صحت کے نقصان کی سب سے بڑی وجہ پھیپھڑوں اور سانس کی نالی کے انفیکشن سامنے آئے۔
سیکنڈ ہینڈ اسموک سے مراد وہ دھواں ہے جو تمباکو جلنے اور سگریٹ نوشی کرنے والے شخص کے سانس چھوڑنے سے اردگرد کی فضا میں شامل ہوتا ہے۔ اس میں موجود زہریلے اور سرطان پیدا کرنے والے کیمیکل ایسے افراد کی صحت کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں جو خود سگریٹ نوشی نہیں کرتے۔ محققین نے گھروں، کام کی جگہوں اور عوامی مقامات کو تمباکو کے دھوئیں سے پاک رکھنے اور تمباکو نوشی کے خلاف قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔