بھارت میں حزب اختلاف کے رہنما اور کانگریس کے رکن راہول گاندھی کو نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاجی مارچ کے دوران پولیس نے مختصر وقت کے لیے حراست میں لینے کے بعد رہا کر دیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کانگریس سمیت اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کے رہنماؤں نے پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب مارچ کیا۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے، تاہم پولیس کی بھاری نفری نے مارچ کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اس دوران راہول گاندھی سمیت متعدد ارکان پارلیمنٹ کو مختصر طور پر حراست میں لیا گیا۔
بھارتی اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور اس سے وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے الیکشن کمیشن پر حکومت کے زیر اثر کام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جمہوریت کے تحفظ کے لیے احتجاج کر رہی ہے۔
نئی دہلی میں احتجاج کے پیش نظر سینکڑوں پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ متعدد راستے بند کر دیے گئے۔ بھارت کی سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کی ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے خلاف دائر درخواستوں پر قانونی دلائل سننے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔