پاکستان میں بعض لوگوں نے پاکستان ہی کو اجنبی بنا دیا ہے۔ یہ لوگ پاکستان میں رہتے ہیں، پاکستان کا کھاتے ہیں، پاکستان سے انہیں شناخت اور عزت ملتی ہے، پاکستان نے ان کو معتبر بنایا ہے لیکن ان کی ہمدردیاں کسی اور کے ساتھ ہوتی ہیں اور کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ ان کی وفاداریاں بھی کسی اور کے ساتھ ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری خانیاں اور پاٹے خانیاں پاکستان کی وجہ سے ہیں۔ یہ پاکستان کے ایوانوں میں بیٹھتے ہیں، یہ پاکستان کے اہم مناصب لیتے ہیں، یہ پاکستان میں اہم عہدوں پر بیٹھتے ہیں، یہ پاکستان میں فیصلہ سازی کے منصب پر بھی براجمان ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کے دلوں سے پاکستان کے لیے جو بغض اور کینہ ہے، وہ نہیں نکلتا۔
یہ دنیا کے ہر ملک کے لیے وارفتگی کا اظہار کریں گے، پاکستان کے لیے نہیں کریں گے۔ یہ کسی بھی مکتبِ فکر کے ہوں، قوم پرست ہوں، ان کی شناخت لسانی ہو، مذہبی ہو، نسل پرستی کی ہو، ان کے پاس درجنوں رہنما اور درجنوں اکابرین ہیں۔ یہ ان سب کے فضائل بیان کریں گے، یہ ان سب کے قصیدے پڑھیں گے، نہیں پڑھیں گے تو صرف پاکستان کے بانیوں کے نہیں پڑھیں گے۔ پاکستان کے بانیوں کا یہ ذکر تک گوارا نہیں کریں گے۔ کبھی ان کے منہ پر ان کا نام آ بھی جائے تو ان کی زبان میں کڑواہٹ گھل جاتی ہے۔
پاکستان کے لیے ان کی زبان پر کبھی کوئی اچھی بات نہیں آئی۔ کبھی یہ پاکستان ٹوٹنے کی دھمکیاں دیتے ہیں، کبھی یہ 1971 کا طعنہ دیتے ہیں، کبھی یہ کوئی غلطی گنواتے ہیں، کبھی یہ کسی خامی کو پہاڑ جیسا بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کے منہ سے پاکستان کے لیے ہر وقت نفرت کی آتش فشاں نکلتی ہے۔
پاکستان کی خامیوں پر یہ یہ ہر وقت منہ کے آتش فشاں کھولے رکھتے ہیں۔ دسمبر 71 کا ذکر یہ ایسے کرتے ہیں جیسےا س روز ان کے والد گرامی کا ولیمہ ہوا ہو۔ لیکن پاکستان کے قومی دن آئیں تو یہ گونگے اور بہرےہو جاتے ہیں۔ 14 اگست کو یہ بالکل لاتعلق کھڑے ہوتے ہیں ۔ 6 ستمبر کو انہیں سانپ سونگھ جاتا ہے۔ 28 مئی کو ان کی قوت گویائی سلب ہو جاتی ہے۔ معرکہ حق کی بات چل نکلے تو ان کی زبانیں پتھر ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی کسی اچھی چیز کوکبھی اون نہیں کیا ، پاکستان کا تذکرہ یہ ہمیشہ منفی انداز سے کرتے ہیں ۔
مجال ہے کہ کبھی انہوں نے پاکستان کی کسی کامیابی کا بھی حوالہ دیا ہو۔ مجال ہے کہ کبھی انہوں نے کہا ہو کہ ہاں، پاکستان دنیا کی واحد مسلمان ریاست ہے جو ایٹمی قوت ہے اور پاکستان نے یہاں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ مجال ہے کہ کبھی انہوں نے پاکستان کی فارن پالیسی کی ڈھیروں کامیابیوں میں سے کسی کامیابی کا اعتراف کیا ہو۔ یہ اس مرتی مارتی دنیا میں پاکستان کی کابمیابیوں کا کبھی ذکر نہیں کریں گے۔ صرف لعن طعن کریں گے ۔ان کے خیال میں پاکستان صرف امریکہ کا طفیلیہ ہے ، ایک بکاؤ ملک ہے اور معلوم نہیں ان جیسا ٹیپو سلطان اس ملک میں کیوں پیدا ہو گیا۔
یہ پاکستان کے بارے میں جب بھی بولتے ہیں، باقاعدہ پھنکارتے ہوئے بولتے ہیں۔ ۔ پاکستان کا تذکرہ کرتے وقت انہوں نے کبھی “ہم” کی اصطلاح استعمال نہیں کی ، یہ ہمیشہ ” تم” کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں ۔ اردگرد پڑوس میں ان کی محبتوں کے مراکز ہیں، یہ ان کے لیے مرے جا رہے ہوتے ہیں۔ ان کی غلطیوں کا اول تو یہ ذکر نہیں کرتے، ان کی زبانیں بھاری ہو جاتی ہیں، لیکن اگر کریں بھی تو اگر اور مگر لگا کر کرتے ہیں اور اس اگر اور مگر کے بعد بھی یہ پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں۔
پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے غصے سے ان کے چہرے سیاہ ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کی ہر شناخت سے یہ بیزار ہیں۔ پاکستان کے بارے میں جب بھی بات کرنی ہے، منفی کرنی ہے۔ پاکستان کی ہر غلطی انہیں ہمالیہ کا پہاڑ نظر آتی ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ دنیا کے ارض و بر کے کسی بھی گوشے میں کہیں بھی کوئی مسئلہ ہو، کسی کا بھی پاکستان کے ساتھ کوئی مسئلہ ہو تو اس میں غلطی پاکستان کی ہے۔ پاکستان ہمیشہ غلطی پر ہوگا اور دوسرے ہمیشہ ٹھیک مقام پر کھڑے ہوں گے۔
ان کا رویہ ایسا ہے جیسے انہیں کسی ابلیس نے چھو لیا ہو۔ یہ اپنی آگ میں جل رہے ہیں۔ کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے کہ پاکستان نے ان لوگوں کو کیا نہیں دیا؟ کون سی چیز ہے جو ان کے پاکستان کے دائیں بائیں عقیدتوں کے مراکز میں موجود ہے لیکن پاکستان میں موجود نہیں ہے؟
یوں لگتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ان کی کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔ یہ پاکستان ان کے لیے ایک دسترخوان ہے۔ دسترخوان ان کے آگے بچھا رہے گا تو یہ خاموش رہیں گے۔ جیسے ہی دسترخوان لپٹنا شروع ہو جائے گا، یہ غم و غصے کی تصویر بن جائیں گے۔ یہ پاکستان کو ہی سینگوں پر لے لیں گے۔
یہ معززین کہیں ملیں تو ان سے پوچھا جانا چاہیے عالی جاہ ، آپ کو پاکستان سے تکلیف کیا ہے؟