شنگھائی تعاون تنظیم کا اہم اجلاس دوشنبہ میں شروع، تاجک صدر امام علی رحمان کی اسحاق ڈار سمیت رکن ممالک کے وفود سے ملاقات

تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ حکومت کا دو روزہ اجلاس شروع ہو گیا ہے، جس میں پاکستان سمیت تنظیم کے رکن ممالک کے اعلیٰ سطح کے وفود شریک ہیں۔ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ اجلاس میں علاقائی تجارت، اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور رکن ممالک کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے سے متعلق اہم امور زیرِ بحث ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق، منگل 20 اکتوبر کو اجلاس کے موقع پر تاجکستان کے وزیر اعظم قاہر رسول زادہ نے اسحاق ڈار سمیت مختلف ممالک کے وفود کے سربراہان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر رکن ممالک کے نمائندوں نے علاقائی تعاون کو وسعت دینے اور مشترکہ اقتصادی ترقی کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔

اسحاق ڈار نے دیگر وفود کے سربراہان کے ہمراہ تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے بھی ملاقات کی۔ تاجک صدر نے وفود کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت علاقائی اقتصادی تعاون مضبوط بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے تجارت، مواصلاتی روابط، علاقائی استحکام اور مشترکہ خوش حالی کے فروغ پر زور دیا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہانِ حکومت کونسل تنظیم کا دوسرا اہم ترین فیصلہ ساز ادارہ ہے۔ یہ کونسل رکن ممالک کے درمیان اقتصادی، مالیاتی اور تجارتی تعاون، علاقائی رابطہ کاری اور سماجی و معاشی ترقی سے متعلق معاملات کا جائزہ لیتی ہے۔ اس کے علاوہ تنظیم کے بجٹ اور مشترکہ منصوبوں سے متعلق امور بھی کونسل کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔

اجلاس میں چین، روس، ازبکستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، بیلاروس اور دیگر رکن ممالک کے اعلیٰ نمائندے شریک ہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق، اسحاق ڈار اپنے دورے کے دوران مختلف رکن ممالک کے ہم منصبوں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں باہمی تعلقات، تجارتی مواقع اور علاقائی تعاون سے متعلق امور پر بات چیت متوقع ہے۔

پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم میں اپنا سفارتی کردار مزید مضبوط بنانے کے لیے بھی سرگرم ہے۔ پاکستان نے اکتوبر 2024 میں اسلام آباد میں تنظیم کی سربراہانِ حکومت کونسل کے اجلاس کی میزبانی کی تھی، جبکہ ستمبر 2026 میں اسے سربراہانِ مملکت کونسل کی صدارت ملی۔ پاکستان 2027 میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کی میزبانی کرے گا، جس کے لیے انتظامی اور سفارتی تیاریاں جاری ہیں۔

پاکستان اس وقت شنگھائی تعاون تنظیم کے علاقائی انسدادِ د-ہشت گردی ڈھانچے، ایس سی او آر اے ٹی ایس، کی صدارت بھی کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ رواں سال جولائی میں اسلام آباد نے رکن ممالک کے سرحدی خدمات کے سربراہان کے بارہویں اجلاس کی میزبانی کی تھی۔ دوشنبہ میں جاری اجلاس کو رکن ممالک کے درمیان اقتصادی روابط بڑھانے اور خطے میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں