صدر شوکت مرزیایوف کی شطرنج چیمپئنز سے ملاقات

ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف نے قومی شطرنج اور پیرا شطرنج ٹیموں کے کھلاڑیوں، ان کے والدین، سرپرستوں اور کوچز سے ملاقات کی اور سمرقند میں ہونے والی 46ویں فائیڈ شطرنج اولمپیاڈ میں تاریخی کامیابی پر انہیں مبارکباد دی۔

صدر نے ازبک کھلاڑیوں کو مسلسل دوسری مرتبہ اولمپک چیمپئن بننے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سمرقند میں دنیا کے 200 سے زائد ممالک کے تقریباً 2 ہزار شطرنج کھلاڑیوں کی شرکت کے درمیان ازبکستان کا سب سے اوپر پہنچنا ملک کے لیے غیر معمولی کامیابی ہے۔

مقابلوں کو سمرقند میں دیکھنے کے لیے 60 ہزار سے زائد مقامی اور غیر ملکی شائقین پہنچے، جبکہ ملک بھر میں تقریباً 5 لاکھ افراد اور دنیا بھر میں لاکھوں شائقین نے ازبک ٹیم کی کارکردگی ٹی وی اور آن لائن دیکھی۔

صدر نے خصوصاً دفاعی اولمپک چیمپئن بھارت کے خلاف فیصلہ کن مقابلے کا ذکر کیا، جہاں نودربیک یعقوب بویف نے مشکل پوزیشن کے باوجود آخر تک مقابلہ جاری رکھا اور حریف کی غلطی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اہم کامیابی حاصل کی۔ اس فتح کے بعد ازبکستان نے برتری حاصل کی، پھر چین کو 3-1 سے شکست دی اور عالمی نمبر ایک اور چھ مرتبہ کی اولمپیاڈ چیمپئن امریکا کو بھی مات دی۔

نودربیک عبد الستاروف پورے ٹورنامنٹ میں ناقابلِ شکست رہے اور پہلے بورڈ پر انفرادی طلائی تمغہ حاصل کیا۔ صدر نے فابیانو کاروانا کے خلاف ان کی مشکل اینڈ گیم میں کامیابی کو بھی نمایاں کیا۔ صدر نے عالمی چیمپئن شپ کے آئندہ مقابلے میں ان کی کامیابی پر اعتماد کا اظہار کیا۔

اولمپیاڈ میں پہلی مرتبہ شرکت کرنے والے مخدین مدامینوف نے یوکرین کے رومان ڈیکھتیاروف کو شکست دے کر ٹیم کے لیے مطلوبہ پوائنٹ حاصل کیا، جبکہ شمسی الدین واحدوف نے سیاہ مہروں کے ساتھ موجودہ عالمی چیمپئن گوکیش کے خلاف برابر کا مقابلہ کیا۔

ازبکستان نے اولمپیاڈ میں تین مردوں اور تین خواتین سمیت مجموعی طور پر چھ قومی ٹیموں کے ساتھ شرکت کی۔ دوسری مردوں کی ٹیم نے عالمی رینکنگ میں چھٹے نمبر پر موجود نیدرلینڈز کو شکست دی، جبکہ 17 سالہ اسرورجان اومونوف نے تیسری ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے آٹھ میں سے سات مقابلوں میں کامیابی حاصل کی۔

صدر مرزیایوف نے کہا کہ ازبکستان کے پاس صرف دو یا تین نہیں بلکہ مضبوط شطرنج کھلاڑیوں کی پوری نسل موجود ہے۔

خواتین کی ٹیموں کی کارکردگی کو بھی سراہا گیا۔ پہلی ٹیم نے 11 میں سے سات راؤنڈ جیتے، جبکہ افروزا خمدامووا، گل رخ بیگم طاہر جانوا، امیدہ اومونوا، نیلوفر امام قولوا اور گلدونا کریمووا سمیت دیگر کھلاڑیوں کی کوششوں کو خصوصی طور پر اجاگر کیا گیا۔

پیرا شطرنج میں بھی اہم کامیابی

سمرقند میں ہونے والی تیسری فائیڈ پیرا شطرنج اولمپیاڈ میں ازبکستان نے پہلی مرتبہ کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ سیلبی کاکیشووا نے سات میں سے چھ پوائنٹس حاصل کرتے ہوئے اپنے بورڈ پر انفرادی چاندی کا تمغہ جیتا، جبکہ عبدالعزیز باہودروف نے انفرادی کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ احاد خان کیمسان بایوف پورے ٹورنامنٹ میں ناقابلِ شکست رہے۔ صدر نے پیرا شطرنج کے کھلاڑیوں کی محنت اور عزم کو بھی سراہا اور کامیابیوں میں والدین، ابتدائی سرپرستوں اور کوچز کے کردار کو اہم قرار دیا۔ عالمی چیمپئن رستم قاسِم جانوف کی جانب سے نئی نسل کے کھلاڑیوں کو تجربہ اور علم منتقل کرنے کی خدمات کو بھی خصوصی طور پر سراہا گیا۔

ازبکستان کو عالمی شطرنج مرکز بنانے کا ہدف

صدر مرزیایوف نے کہا کہ اب اگلا ہدف ازبکستان کو صرف اولمپک چیمپئن نہیں بلکہ دنیا کا ایک اہم شطرنج مرکز بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہر خطے، ضلع اور محلے میں کم عمری سے باصلاحیت بچوں کی شناخت، انہیں بہترین کوچز سے منسلک کرنے اور بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے مواقع فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ خواتین کی شطرنج اور پیرا شطرنج کے لیے بھی الگ نظام قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تاشقند انٹرنیشنل چیس اکیڈمی کی علاقائی شاخیں سمرقند، خورزم اور فرغانہ میں قائم کی جائیں گی، جبکہ اعلیٰ سطح کے کوچز کی تیاری کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام شروع ہوں گے۔

فائیڈ ریٹنگ 1500 سے زائد رکھنے والے کھلاڑیوں کی نجی شطرنج کلبوں کی فیس کا نصف حصہ ریاست ادا کرے گی۔

اس کے علاوہ ’’ازبکستان گرینڈ چیس‘‘ کے نام سے بین الاقوامی ٹورنامنٹس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں گے۔ نیو تاشقند میں ایک جدید شطرنج محل تعمیر کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، جس میں 500 تماشائیوں کی گنجائش والا ہال، رہائشی عمارت اور کھیلوں کی سہولیات شامل ہوں گی۔

حکومت نے شطرنج اور پیرا شطرنج اولمپیاڈ کے فاتحین، میڈلسٹ کھلاڑیوں اور کوچز کے لیے انعامات کا بھی اعلان کیا۔ ہر اولمپک چیمپئن کو 2 لاکھ ڈالر اور اس کے کوچ کو 50 ہزار ڈالر دیے جائیں گے، جبکہ پیرا شطرنج کے کانسی کا تمغہ جیتنے والے کھلاڑی کو 50 ہزار ڈالر اور کوچ کو 12 ہزار 500 ڈالر دیے جائیں گے۔

چیمپئن کھلاڑیوں کو مکانات اور گاڑیاں بھی دی جائیں گی، جبکہ پیرا شطرنج کے کانسی کا تمغہ جیتنے والوں کو بھی مکان اور گاڑی فراہم کی جائے گی۔ قومی ٹیموں کے ہیڈ کوچز رستم قاسِم جانوف اور سمر قمر محمدوف کو بھی گاڑیوں سے نوازا جائے گا۔

صدر کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے تحت شطرنج کے کھلاڑیوں، کوچز اور متعلقہ شخصیات کو ملکی وقار بلند کرنے، بہترین مہارت اور خدمات کے اعتراف میں ریاستی اعزازات بھی دیے گئے۔

صدر مرزیایوف نے اس موقع پر کہا کہ یہ اعزازات صرف موجودہ کامیابیوں کا اعتراف نہیں بلکہ کھلاڑیوں کے مستقبل میں مزید کامیابیوں پر اعتماد کا اظہار بھی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں