دنیا کی ایک تہائی آبادی خطرناک فضائی آلودگی کی زد میں، یورپی رپورٹ

موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید گرمی کی لہروں اور جنگلات کی آگ نے فضائی آلودگی کے خطرے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ یورپی یونین کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق 2026 کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی نے زمین کی سطح پر موجود اوزون کی انتہائی بلند سطح والی ہوا میں سانس لیا۔

یورپی یونین کی جانب سے جاری تجزیے میں موسمیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی کے درمیان گہرے تعلق کو نمایاں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جب شدید گرمی اور سورج کی روشنی فضا میں موجود جنگلات کی آگ، گاڑیوں اور صنعتی سرگرمیوں سے خارج ہونے والی گیسوں کے ساتھ کیمیائی عمل کرتی ہے تو زمینی سطح پر اوزون تشکیل پاتا ہے۔ یہ آلودگی پھیپھڑوں کے بافتوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ سانس لینے میں دشواری اور دمے کے حملوں سمیت مختلف صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

کوپرنیکس کے مطابق گزشتہ چند دہائیوں میں کئی نقصان دہ فضائی آلودگیوں کے اخراج میں کمی لائی گئی ہے، تاہم اوزون آلودگی پر قابو پانا اب بھی ایک مشکل چیلنج ہے، کیونکہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت ان موسمی حالات کو تقویت دیتا ہے جن میں اوزون تیزی سے بنتا ہے۔

رواں سال یورپ اور شمالی امریکا میں ریکارڈ توڑ گرمی اور بڑے پیمانے پر جنگلات کی آگ نے اوزون آلودگی میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ آگ سے اٹھنے والا دھواں سرحدوں سے گزر کر دور دراز علاقوں تک پہنچا۔ انڈونیشیا بھی شدید جنگلاتی آگ سے متاثر ہوا، جبکہ جون میں شروع ہونے والا گرم موسمی پیٹرن ایل نینو جنوب مشرقی ایشیا میں مزید آگ کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

کوپرنیکس کی ایٹموسفیر مانیٹرنگ سروس سیٹلائٹ ڈیٹا اور کمپیوٹر ماڈلز کے ذریعے فضائی آلودگی اور جنگلات کی آگ کی نگرانی کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے 15 ستمبر تک دنیا کی 34 فیصد آبادی کو ’انتہائی خراب‘ فضائی معیار کا سامنا رہا، جہاں اوزون کی مقدار عالمی ادارۂ صحت کی تجویز کردہ حد سے کہیں زیادہ تھی۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق آٹھ گھنٹے کی اوسط بنیاد پر فی مکعب میٹر ہوا میں 100 مائیکروگرام اوزون کو زیادہ سے زیادہ تجویز کردہ حد تصور کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا کی مزید 17 فیصد آبادی نے ’بہت خراب‘ جبکہ صرف 5 فیصد نے ’اچھی‘ سطح کی اوزون والی ہوا میں سانس لیا۔

ایشیا سب سے زیادہ متاثر

ایشیا میں اوزون آلودگی کی صورتحال سب سے زیادہ تشویش ناک رہی، جہاں 53 فیصد آبادی کو ’انتہائی خراب‘ فضائی معیار کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ مزید 22 فیصد آبادی ’بہت خراب‘ اوزون آلودگی کی زد میں رہی۔

رپورٹ کے مطابق ایشیا میں صنعتی سرگرمیوں، معاشی ترقی، ٹرانسپورٹ، جنگلات کی آگ اور زرعی باقیات جلانے سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نئی دہلی، ڈھاکا، چین کا شہر چونگ چنگ اور پاکستان کا لاہور ان شہروں میں شامل ہیں جہاں اوزون کی سطح ’انتہائی خراب‘ ریکارڈ کی گئی۔

شمالی امریکا کی تقریباً دو تہائی اور یورپ کی 45 فیصد آبادی کو ’خراب‘ یا ’بہت خراب‘ فضائی معیار کا سامنا رہا۔ یورپی ماحولیاتی ادارے کے مطابق یورپی یونین کی جانب سے فضائی آلودگی کے اخراج میں کمی کے لیے کیے گئے اقدامات مؤثر ثابت ہوئے ہیں، تاہم اوزون آلودگی میں نمایاں کمی نہیں لائی جاسکی۔

یورپ میں اوزون آلودگی ہر سال تقریباً 60 ہزار قبل از وقت اموات سے منسلک ہے۔ شمالی امریکا میں بھی سخت ماحولیاتی پالیسیوں کے باوجود اوزون کی سطح میں نسبتاً معمولی تبدیلی دیکھی گئی۔

افریقہ میں جنگلات کی آگ، فصلوں کی باقیات جلانے اور کھانا پکانے سے پیدا ہونے والا دھواں فضائی آلودگی کے اہم ذرائع ہیں، جبکہ صحراؤں سے اٹھنے والی گرد بھی طویل فاصلہ طے کرکے یورپ تک پہنچتی ہے۔ رواں سال افریقہ کی 8 فیصد آبادی کو ’انتہائی خراب‘ فضائی معیار کا سامنا رہا، جبکہ 19 فیصد آبادی ’خراب‘ یا ’بہت خراب‘ ہوا میں سانس لیتی رہی۔

جنوبی امریکا میں برازیل کے شہر ساؤ پالو میں اوزون کی سطح بہت بلند جبکہ ریو ڈی جنیرو میں انتہائی بلند ریکارڈ کی گئی، تاہم براعظم کی 81 فیصد آبادی کے لیے اوزون کا معیار ’اچھا‘ یا ’مناسب‘ رہا۔

اوشیانا خطہ، جس میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں، نسبتاً بہتر صورتحال میں رہا۔ یہاں 66 فیصد آبادی کو ’اچھی‘ جبکہ 34 فیصد کو ’مناسب‘ اوزون کی سطح والی ہوا میسر رہی۔

اپنا تبصرہ لکھیں