مبینہ ہراسانی کا مقدمہ، مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور

پاکستانی ٹی وی اداکارہ مومنہ اقبال کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے الزام این سی سی آئی اے میں درج مقدمے میں مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ نے عبوری قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کر لی ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عرفان احمد شیخ نے جمعہ کے روز درخواستِ ضمانت پر سماعت کے بعد ثاقب چدھڑ کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی کو 24 جون تک انہیں گرفتار کرنے سے روک دیا اور آئندہ سماعت پر مقدمے کا ریکارڈ طلب کر لیا۔

این سی سی آئی اے نے ایک روز قبل اداکارہ مومنہ اقبال کی شکایت پر ثاقب چدھڑ کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ مقدمے میں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام سے متعلق قانون اور پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔

مقدمے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق مومنہ اقبال نے الزام عائد کیا ہے کہ ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور دیگر متعلقہ افراد نے ان اور ان کے خاندان کے خلاف سائبر ہراسانی، تعاقب، دھمکیوں، بلیک میلنگ، بدنامی اور غیر قانونی نگرانی کی مہم چلائی۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ اداکارہ نے ثاقب چدھڑ کی شادی کی پیشکش یہ جاننے کے بعد مسترد کر دی تھی کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہیں، جس کے بعد مبینہ طور پر انہیں دھمکیاں دی گئیں، نجی معلومات تک رسائی کی کوشش کی گئی اور ذاتی ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کیا گیا۔

شکایت کے مطابق ملزم نے اداکارہ کی سماجی اور پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، ان کی 2023 کی شادی کی تجویز کو غلط معلومات کے ذریعے متاثر کیا اور حالیہ عرصے میں نجی مواد منظر عام پر لانے، انہیں اور ان کے منگیتر کو نقصان پہنچانے اور آئندہ شادی میں رکاوٹ ڈالنے کی دھمکیاں دیں۔

ابتدائی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اداکارہ اور ثاقب چدھڑ کے موبائل فونز اور دیگر آلات کا ابتدائی تکنیکی اور فرانزک جائزہ لیا گیا، جس کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا۔

یہ معاملہ اس وقت نمایاں ہوا جب مومنہ اقبال کی سوشل میڈیا پر کی گئی اپیل وائرل ہوئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ طویل عرصے سے آن لائن ہراسانی، سائبر غنڈہ گردی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایک حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والا رکن صوبائی اسمبلی انہیں مسلسل ہراساں کر رہا ہے اور متعلقہ اداروں سے رجوع کرنے کے باوجود کارروائی نہیں کی گئی۔

بعد ازاں پنجاب حکومتی قیادت کی ہدایت پر این سی سی آئی اے نے شکایت پر کارروائی شروع کی اور دونوں فریقین کو طلب کر کے بیانات قلم بند کیے۔ اس کے بعد اداکارہ نے لاہور کے چونگ تھانے میں بھی درخواست جمع کروائی جس میں الزام لگایا گیا کہ ثاقب چدھڑ نے انہیں اور ان کے منگیتر کو دھمکی آمیز فون کالز کیں اور شادی کی پیشکش مسترد ہونے کے بعد بلیک میلنگ کا سلسلہ شروع کیا۔

دوسری جانب پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے بھی ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ کسی خاتون کو دباؤ میں لانے، سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرنے یا ذاتی مواد جاری کرنے کی دھمکی دینے کی کسی بھی کوشش کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں