وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن پاکستان کی معاشی ترقی، تجارت اور برآمدات میں اضافے کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ بدھ کو اسلام آباد میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے علی بابا کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے مؤثر استعمال اور جاری منصوبوں کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے پر زور دیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق اجلاس میں معیشت اور حکومتی نظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال اور علی بابا کے ساتھ جاری تعاون کا جائزہ لیا گیا۔ شہباز شریف نے پاکستانی زرعی مصنوعات کو چینی منڈیوں تک پہنچانے میں علی بابا کے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے زرعی پیداوار، کاروباری سہولتوں اور عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم نے علی بابا کے تعاون سے کینسر کی ابتدائی تشخیص کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام جلد متعارف کرانے اور آئی ٹی گریجویٹس کے لیے 15 روزہ تربیتی پروگرام شروع کرنے کی ہدایت کی۔ یہ پروگرام وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اِگنائٹ منصوبے کے تحت شروع کیا جائے گا، جبکہ اوگرا کو پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین کی نگرانی کے لیے تجزیاتی نظام متعارف کرانے کی بھی ہدایت کی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں تشہیر کے لیے علی بابا کے پلیٹ فارم پر مخصوص پاکستان پویلین قائم کیا گیا ہے، جبکہ ترش پھلوں اور زیتون کی برآمدات میں سہولت کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ سمیڈا اور علی بابا کے اشتراک سے دو سالہ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو تربیت، ای کامرس اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
شہباز شریف نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ نومبر تک ضروری اقدامات مکمل کرکے پیش رفت کی رپورٹ پیش کی جائے۔ اجلاس میں ایف بی آر کے لیے جدید ڈیٹا پلیٹ فارم، اعلیٰ تعلیم، ریلوے، ڈاک کے نظام اور شہری انتظامیہ میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ شراکت داری کے ثمرات یقینی بنانے کے لیے واضح اہداف، مقررہ مدت اور مؤثر نگرانی ضروری ہے۔