وزیراعظم کی مون سون کے دوران این ڈی ایم اے کو صوبوں سے رابطہ مضبوط بنانے کی ہدایت

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے قومی ادارہ برائے قدرتی آفات، این ڈی ایم اے کو ہدایت دی ہے کہ مون سون کے دوران صوبوں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

وزیراعظم دفتر کے مطابق، این ڈی ایم اےکے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ان کو ہدایات دیں۔ ملاقات میں وزیراعظم کو ملک بھر میں بارشوں کے دوران ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی۔

اس دوران وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صوبائی حکومتوں اور پی ڈی ایم ایزکے ساتھ رابطہ مزید مضبوط بنایا جائے۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کو قبل از وقت خبردار کرنے کے نظام کو مکمل طور پر فعال بنانے سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ اس سلسلے میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ تعاون بھی بڑھایا جا رہا ہے۔

پاکستان میں مون سون بارشیں عموماً جون سے ستمبر تک جاری رہتی ہیں، جو گرمی میں کمی اور پانی کے ذخائر کے لیے اہم ہوتی ہیں۔ تاہم شدید بارشیں کئی علاقوں میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، نقل مکانی اور جانی و مالی نقصان کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے موسمی جائزے کے مطابق گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر کے ملحقہ علاقوں اور بالائی خیبر پختونخوا میں رواں موسم کے دوران معمول کے قریب بارشوں کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے بیشتر حصوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق گلگت بلتستان کے مشرقی حصوں اور ملحقہ علاقوں میں درجہ حرارت نسبتاً زیادہ رہ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق گرم موسم برف اور گلیشیئرز کے پگھلنے کے عمل کو تیز کر سکتا ہے، جس سے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ عوام کو بروقت اطلاع، امدادی تیاریوں اور صوبوں کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی کو یقینی بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں