جیسا کہ بعض احباب کے علم میں ہے کہ میں ان دنوں دبئی میں مقیم ہوں ۔ دبئی میں جس جگہ میری رہائش ہے وہ علاقہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ ٹرمینل ٹو کے قریب واقع ہے ۔ لہذا ایئر پورٹ کی ملحقہ شاہرہ سے گزرتے ہوئے ائیرپورٹ پر کھڑے جہاز اکثر دکھائی دیتے ہیں ۔ ان میں زیادہ تر جہاز فلائی دبئی ایئر لائن کے ہوتے ہیں ۔ میرے ذہن میں یہ سوال اکثر آتا ہے کہ فلائی دبئی کے پاس ٹوٹل کتنے جہاز ہیں جن میں سے درجنوں ہر وقت اڑان بھرنے کو تیار کھڑے ہوتے ہیں ۔ظاہر ہے بحیثیت پاکستانی میرا خیال پاکستانی ایئر لائن کی طرف بھی گیا کہ پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے کے پاس اتنے زیادہ جہاز کیوں نہیں ہیں اور وہ مسلسل خسارے میں کیوں ہے ؟ آئیے ذیل میں ان سوالات کا جائزہ لیتے ہیں ۔
دراصل پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے ) نے 1955 میں اپنی پرواز کا آغاز کیا تھا اور آج ہم اسے ایک زخم خوردہ پرندے کی مانند تڑپتا دیکھ رہے ہیں ، جبکہ 2009 میں قائم ہونے والی فلائی دبئی مسافروں کو نہ صرف آرام دہ سفری سہولیات فراہم کر رہی ہے بلکہ سالانہ منافع میں اضافے کی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ فلائی دبئی کے پاس 88 جدید طیاروں کا بیڑا ہے، جن میں بوئنگ 737-800، MAX 8 اور MAX 9 شامل ہیں، جبکہ پی آئی اے کے پاس 32 طیارے ہیں، جن میں سے 19 فعال ہیں۔ فلائی دبئی نے 2024 میں 3.5 ارب ڈالر کا ریونیو حاصل کیا اور 674 ملین ڈالر منافع کمایا، جبکہ پی آئی اے کا سالانہ نقصان 144 ملین ڈالر تک جا پہنچا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ فلائی دبئی کیسے کامیاب ہوئی، سوال یہ ہے کہ پی آئی اے کیوں ناکام ہوئی؟ جواب سیدھا اور کڑوا ہے ۔ پی آئی اے کی بدحالی کی سب سے بڑی وجہ خود اس کی اپنی سرپرست حکومتیں، سیاسی بھرتیاں، اقربا پروری، نااہلی اور کرپشن ہے۔ پی آئی اے کو برسوں تک ووٹوں کے عوض ایک سیاسی چراگاہ کے طور پر استعمال کیا گیا، جہاں قابلیت کو رشتے دار کے ہاتھ بیچ دیا گیا، اور تربیت کو پارٹی وابستگی کے سامنے مات دینا پڑی۔ درجنوں جعلی ڈگری یافتہ پائلٹ، بدعنوان مینجمنٹ، اور ناقص سروس کے باعث مسافر نہ صرف خفا ہوئے بلکہ دیگر ایئرلائنز کی طرف منتقل ہو گئے۔
پی آئی اے کو سیاسی حکومتوں نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، کبھی کسی سفیر کا بھائی ڈائریکٹر لگا، کبھی کسی وزیر کا سسر جنرل مینیجر بن گیا۔ مالی بدانتظامی نے بیڑے کو تباہ کیا، طیارے کھڑے رہے، پرزے چوری ہوتے رہے، اور ادارہ قرضوں کے بوجھ تلے دب گیا۔ اس پر مستزاد، یورپی یونین کی جانب سے حفاظتی خدشات کے باعث یورپ کے لیے پروازوں پر پابندی نے پی آئی اے کی کمر توڑ دی۔
فلائی دبئی، جو ایک نیم سرکاری مگر تجارتی بنیادوں پر چلنے والی ایئرلائن ہے، دبئی حکومت کی شفاف پالیسیوں، بزنس فرینڈلی ماڈل اور غیر سیاسی نظم و نسق کا ثمر ہے۔ اس نے نئے طیارے خریدے، جدت اپنائی، خدمات بہتر بنائیں اور صرف مسافر کی سہولت کو مقدم رکھا۔ اس کے مقابلے میں پی آئی اے نے محض قرضے لیے، تنخواہیں بڑھائیں، اور اصلاحات کے نام پر تقرریوں کا بازار گرم رکھا۔
یہ المیہ صرف پی آئی اے کا نہیں بلکہ پوری ریاستی سوچ کا ہے، جو اداروں کو قومی اثاثہ سمجھنے کے بجائے سیاسی ہتھیار سمجھتی ہے۔ آج اگر پی آئی اے کو بچانا ہے، تو اسے سیاست سے آزاد، میرٹ پر مبنی، اور مکمل طور پر پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلانا ہوگا، ورنہ وہ دن دور نہیں جب ہماری قومی ایئرلائن صرف یادوں میں باقی رہ جائے گی اور ہم اس کی داستان گوئی کیلئے ۔