پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ میں اسکول کے مالک کو ناقص تعمیراتی مواد استعمال کرنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، جبکہ متعلقہ سرکاری محکموں کی غفلت کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو پیش کی۔ گورنر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں مشیر ڈاکٹر امیر عبداللہ، چیف سیکریٹری ڈاکٹر فخر عالم عرفان، سیکریٹری تعلیم عنایت اللہ وسیم اور تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ 15 اکتوبر کو پشاور کی دیر کالونی میں واقع نجی اسکول الخیر کی عمارت کی چھت گرنے سے کم از کم 30 بچے اور ایک استاد جاں بحق جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے۔ امدادی حکام کے مطابق بالائی منزل کی چھت گرنے سے نچلی منزل کے کلاس روم کی چھت بھی منہدم ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں طلبہ ملبے تلے دب گئے۔
واقعے کے بعد گورنر فیصل کریم کنڈی نے تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ کمیٹی نے تعمیراتی معیار، متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں اور حکام کے بیانات کا جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ تیار کی۔
تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسکول کی تعمیر میں غیر معیاری مواد استعمال کیا گیا، جبکہ متعلقہ محکموں نے بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں غفلت برتی۔ اجلاس میں گورنر کو حادثے کی وجوہات، تحقیقاتی نتائج اور کمیٹی کی سفارشات سے آگاہ کیا گیا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ رپورٹ کے قانونی پہلوؤں کا محکمہ قانون کی مشاورت سے جائزہ لیا جائے اور واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں ذمہ داری کی نشاندہی کے بعد اب قانونی کارروائی کا مرحلہ باقی ہے۔ حکام کی جانب سے رپورٹ کی بنیاد پر کسی نئی سزا یا محکمانہ کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا۔