اسلام آباد میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سنگاپور کے وزیر خارجہ ویوین بالاکرشنن سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی روابط اور ہنرمندی کے فروغ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق سنگاپور کے وزیر خارجہ جمعہ، 30 اکتوبر کو سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور سنگاپور کے سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے پر دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور اعلیٰ سطح کے رابطے جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور سنگاپور کے مضبوط سفارتی تعلقات کے مقابلے میں اقتصادی تعاون ابھی محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک مشترکہ کوششوں سے تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو نئی سطح تک لے جا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کے بورڈ آف انویسٹمنٹ اور سنگاپور کے متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کی تجویز بھی پیش کی گئی۔
دونوں رہنماؤں نے کاروباری اداروں کے درمیان روابط اور عوامی سطح پر تبادلوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعاون پر بھی بات ہوئی، خصوصاً 2027 میں سنگاپور کی جانب سے آسیان کی صدارت سنبھالنے کے تناظر میں۔
اسحاق ڈار اور ویوین بالاکرشنن نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ نائب وزیراعظم کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ف-لسطین اور کشمیر کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی۔ اسحاق ڈار نے تنازعات کے حل اور خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔
سنگاپور کے وزیر خارجہ نے یاد دلایا کہ پاکستان ان ابتدائی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے سنگاپور کی آزادی کے بعد اسے تسلیم کیا تھا۔ دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان قدرتی آفات سے نمٹنے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کے تبادلے کا بھی پروگرام رکھا گیا، جس میں پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور سنگاپور کی سول ڈیفنس فورس شامل ہیں۔