گزشتہ روز کی شدید مندی کے بعد پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج قدرے استحکام دیکھنے میں آیا ہے، اور مارکیٹ نے بحالی کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ہے۔ آج کاروباری دن کے آغاز سے ہی 100 انڈیکس میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، اور دن کے ابتدائی گھنٹوں میں ہی 1700 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق، صبح 11 بجکر 3 منٹ پر 100 انڈیکس میں 1782 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جس کے بعد انڈیکس 1 لاکھ 16 ہزار 692 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا، جو کہ ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
یہ بحالی ایسے وقت میں دیکھنے میں آئی ہے جب ایک روز قبل عالمی منڈیوں میں بے یقینی کی لہر کے اثرات پاکستان میں بھی محسوس کیے گئے۔ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی مصنوعات پر سخت ٹیرف کے نفاذ کے بعد چین نے بھی امریکا پر بھاری محصولات عائد کر دیے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں اضطراب پھیل گیا۔
اس عالمی کشیدگی کے اثرات پاکستان میں بھی دیکھنے کو ملے، اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں 3,882 پوائنٹس کی ریکارڈ کمی دیکھی گئی۔ یہ ایک روزہ تاریخ کی بدترین گراوٹ میں سے ایک تھی۔ صورت حال اس قدر سنگین ہو گئی کہ، کاروبار کو 45 منٹ کے لیے روکنا پڑا۔ دن کے اختتام پر انڈیکس 1 لاکھ 14 ہزار 909 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
اس شدید اتار چڑھاؤ کی بڑی وجہ امریکا اور چین کے درمیان پیدا ہونے والی نئی تجارتی جنگ ہے، جس نے عالمی منڈیوں میں غیر یقینی فضا کو جنم دیا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق، چین نے ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ‘آخری دم تک لڑے گا۔ بیجنگ کی وزارت تجارت نے ٹرمپ انتظامیہ پر بلیک میلنگ اور غنڈہ گردی جیسے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
اگرچہ ایشیائی مارکیٹوں میں بھی مجموعی طور پر بحالی کے آثار دکھائی دیے، لیکن یہ صورتحال اب بھی غیر مستحکم ہے۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج کا اضافہ اگرچہ حوصلہ افزا ہے، مگر ماہرین اسے عارضی بہتری قرار دے رہے ہیں، کیونکہ عالمی سطح پر جاری تناؤ مستقبل میں دوبارہ منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
آنے والے دنوں میں سرمایہ کاروں کی نظریں بین الاقوامی تجارتی فیصلوں اور خطے کی سیاسی صورتحال پر مرکوز رہیں گی۔