پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی اتحاد کسی کے خلاف نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان قائم مکہ دفاعی اتحاد کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحیت یا علاقائی بالادستی حاصل کرنا نہیں بلکہ مشترکہ دفاع، اجتماعی مزاحمت اور خطے میں امن و استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔

العربیہ انگلش کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ کئی دہائیوں پر محیط دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات کو باضابطہ شکل دیتا ہے۔ ان کے مطابق اتحاد مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کے کوئی علاقائی توسیع پسندانہ مقاصد نہیں ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ مکہ دفاعی اتحاد رکن ممالک کے چین یا دیگر ممالک اور اتحادوں کے ساتھ تعلقات سے متصادم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دیگر ممالک کے ساتھ اپنے الگ اور مضبوط تعلقات موجود ہیں اور نیا دفاعی معاہدہ ان تعلقات کی تکمیل کرتا ہے، ان کا متبادل نہیں۔

اتحاد کے تحت کسی رکن ملک پر حملے کی صورت میں دفاعی ذمہ داریوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدوں کی عملی اور آپریشنل تفصیلات عام طور پر عوام کے سامنے نہیں لائی جاتیں اور ضرورت پڑنے پر تینوں ممالک باہمی مشاورت سے فیصلہ کریں گے کہ معاہدے کو کس طرح عملی شکل دی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں ایسے ممالک کی شمولیت ممکن ہو سکتی ہے جو علاقائی امن، عدم جارحیت، عدم مداخلت اور اجتماعی دفاع کے اصولوں سے اتفاق کرتے ہوں، تاہم کسی نئے رکن کو شامل کرنے کا فیصلہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت کرے گی۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ فی الحال اتحاد کی توسیع زیرِ غور نہیں اور پہلے موجودہ ڈھانچے اور تعاون کو مضبوط کیا جائے گا۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت 31 اگست کو استنبول میں اس کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا تھا۔ تینوں ممالک نے علاقائی امن، کشیدگی میں کمی، اجتماعی دفاع اور باہمی سلامتی کے لیے تعاون مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ اتحاد کا سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم کرنے اور ابتدائی تین سال کے لیے سیکریٹری جنرل پاکستان سے مقرر کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں