بنگلہ دیش کی حکومت کی جانب سے قائم تحقیقاتی کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ قومی ٹیم کو رواں سال آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کرنی چاہیے تھی۔ 22 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں اس وقت کی عبوری حکومت اور سابق یوتھ اینڈ اسپورٹس ایڈوائزر ڈاکٹر آصف نذرال کو بنگلہ دیش کی عدم شرکت کا بنیادی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
کمیٹی کے رکن بیرسٹر فیصل دستگیر کے مطابق انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان سیاسی کشیدگی، آئی سی سی کی جانب سے میچز دوسرے مقام پر منتقل کرنے سے انکار اور حکومتی مداخلت نے فیصلے پر ’بہت زیادہ‘ اثر ڈالا۔ رپورٹ میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی مذاکرات میں ناکامی کو بھی اہم عنصر قرار دیا گیا، جبکہ رابطوں میں خرابی کو نسبتاً کم اثر رکھنے والا سبب بتایا گیا۔
رپورٹ میں موجودہ بی سی بی صدر تمیم اقبال سمیت متعدد افراد کے بیانات شامل کیے گئے ہیں۔ تمیم اقبال نے اپنے بیان میں کہا کہ سیاسی اختلافات کو کھلاڑیوں اور شائقین کے خواب متاثر کرنے کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ ان کے مطابق سکیورٹی خدشات کو بنیاد بنایا گیا، جبکہ کھلاڑی ٹورنامنٹ میں شرکت کے خواہش مند تھے۔
تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب بنگلہ دیش نے سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے آئی سی سی سے اپنے میچز انڈیا سے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی۔ آئی سی سی نے دستیاب سکیورٹی جائزوں کی بنیاد پر درخواست مسترد کرتے ہوئے شیڈول برقرار رکھا، جس کے بعد بنگلہ دیش نے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا۔
آصف نذرال نے رپورٹ سامنے آنے کے بعد کہا کہ انہوں نے پہلے بھی تسلیم کیا تھا کہ ٹیم کو انڈیا نہ بھیجنے کا فیصلہ بنیادی طور پر انہی کا تھا۔ انہوں نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے قومی وقار، کھلاڑیوں، صحافیوں اور شائقین کی سلامتی اور اس وقت کی سیاسی صورتحال کو اہم وجوہات قرار دیا۔
تحقیقاتی کمیٹی نے ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ آصف نذرال اور سابق بی سی بی صدر امین الاسلام بلبل کا بیان حاصل نہیں کر سکی اور آئی سی سی سے بھی رابطہ نہیں کیا گیا۔ کمیٹی نے مستقبل کے لیے کرکٹ کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھنے، بی سی بی کی خودمختاری مضبوط بنانے، بحران کے دوران بہتر رابطہ کاری، کھلاڑیوں کی فلاح و سلامتی کو ترجیح دینے اور اسپورٹس ڈپلومیسی کے لیے قومی فریم ورک بنانے کی سفارش کی ہے۔