پاکستان اور کرغزستان کا دوطرفہ تجارت 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق

پاکستان اور کرغزستان نے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور دوطرفہ تجارت کو بتدریج 20 کروڑ ڈالر سالانہ تک بڑھانے کے لیے عملی اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔

کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور کرغز صدر صادر ژاپاروف کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، علاقائی رابطوں، تعلیم، صحت، سیاحت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے بعد مشترکہ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان موجودہ دوطرفہ تجارت تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہے، جو دونوں ممالک کے قریبی اور دوستانہ تعلقات کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اب اقتصادی شراکت داری کو زیادہ عملی اور نتیجہ خیز مرحلے میں لے جانا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے دوطرفہ تجارت کو آئندہ دو سال میں 20 کروڑ ڈالر سالانہ تک پہنچانے، تجارتی طریقہ کار کو آسان بنانے، مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کی کاروباری برادری کے درمیان براہ راست روابط بڑھانے پر کام کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان بہتر رابطے دونوں ممالک کے مشترکہ اقتصادی وژن کا اہم حصہ ہیں۔ پاکستان اور کرغزستان نے ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کا بھی خیرمقدم کیا، جس سے تجارتی نقل و حمل اور لاجسٹکس بہتر بنانے کے ساتھ علاقائی تجارت کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

دونوں ملکوں نے ٹرانسپورٹ، کسٹمز اور انتظامی معاملات کو مزید آسان بنانے کے لیے تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

توانائی کے شعبے میں کاسا 1000 منصوبے کے بروقت نفاذ کی اہمیت پر زور دیا گیا، جبکہ بجلی، پن بجلی، قابل تجدید توانائی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جدید ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر بھی بات ہوئی۔

پاکستان اور کرغزستان نے تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، صحت، ثقافت اور سیاحت کے شعبوں میں روابط مزید مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا۔ لاہور اور کرغزستان کے شہر اوش کے درمیان سسٹر سٹی تعلقات قائم کرنے کے معاہدے کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔

ملاقات میں سیکیورٹی اور دفاعی تعاون بھی زیر بحث آیا اور دونوں ممالک نے دہش-ت گردی، انت-ہا پسندی اور دیگر سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف اور صدر صادر ژاپاروف کی موجودگی میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ ان میں تجارت، تعلیم، طبی تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی، اسٹریٹجک تحقیق، ورچوئل اثاثوں، بلاک چین ٹیکنالوجی، پوسٹل سروسز اور ای کامرس سے متعلق تعاون شامل ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان کو وسطی ایشیا میں پاکستان کا اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی خیرسگالی کو مضبوط اقتصادی اور تجارتی تعاون میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کرغز صدر صادر ژاپاروف کو مناسب وقت پر پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔

اپنا تبصرہ لکھیں