مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور امریکی ناکہ بندی کے پیش نظر حکومتِ پاکستان نے حالیہ دنوں ایران کے ساتھ چھ نئی تجارتی راہداریوں کو فعال کیا ہے، جن کا مقصد کراچی بندرگاہ پر پھنسے مال بردار گاڑیوں سمیت دیگر ممالک کو ایران کے ساتھ تجارت کے لیے زمینی راستہ مہیا کرنا ہے۔
یہ چھ مجوزہ راستے پاکستان کی مرکزی بندرگاہوں، کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو ایران کی سرحد پر واقع دو گزرگاہوں، گبد اور تفتان، سے ملاتے ہیں۔ یہ راستے بلوچستان کے مختلف علاقوں تربت، پنجگور، خضدار، کوئٹہ اور دالبندین سے ہو کر گزرتے ہیں۔
علاوہ ازیں، پاکستان نے افغانستان کے ذریعے روایتی زمینی راستے کی بندش کے بعد وسطی ایشیا تک رسائی کے لیے دو نئے تجربے بھی کیے ہیں، جہاں ازبکستان کو ایران کے راستے گوشت پر مشتمل ایک کھیپ بھیجی گئی، جبکہ چین سے ہوتے ہوئے نیشنل لاجسٹک کارپوریشن کا ٹرک سامان لے کر پاکستان پہنچا۔
وسطی ایشیا کے ساتھ پاکستان کی تجارت عموماً افغانستان کے راستے ہوتی تھی، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اکتوبر 2025 کے بعد اٹھنے والے تنازعے کے باعث دو طرفہ تجارت سمیت تمام سرحدی گزرگاہیں ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند ہیں۔
حالیہ ان اقدامات کے بارے میں تاثر ہے کہ پاکستان نے افغانستان کو نظر انداز کرتے ہوئے وسطی ایشیا کے ساتھ اپنی تجارت کو بحال کر دیا ہے۔ ہم نے ان راہداریوں کی اہمیت جاننے کے لیے ماہرینِ تجارت کی آراء جاننے کی کوشش کی ہے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ کیا انہیں افغانستان کے متبادل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے؟
پاکستان فیڈرل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر اور پاک ازبک بزنس کونسل کے چیئرمین دارو خان اچکزئی نے تاشقند اردو کو بتایا کہ ’یہ راہداریاں بنیادی طور پر 2008 میں ہونے والے پاک ایران جوائنٹ اکنامک کمیشن معاہدے کا تسلسل ہیں، جس کی دفعہ نمبر دو میں دونوں ممالک نے تجارتی آمد و رفت میں تعاون پر اتفاق کیا تھا۔‘
ماہرین کے مطابق زمینی فاصلے کے اعتبار سے ایران کے راستے تجارت پاکستان کے لیے طویل پڑ سکتی ہے۔اس لیے وہ ان نئے اقدامات کو افغانستان کے متبادل کے طور پر نہیں دیکھتے۔
دارو خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ ‘وہ روایتی راستہ مختصر اور آسان ہے، جبکہ ایران کے راستے ازبکستان تک پہنچنے کے لیے دیگر ممالک درمیان میں آتے ہیں جہاں ڈرائیوروں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی راستہ اس قدر طویل ہے کہ ضروریات تو پوری کی جا سکتی ہیں، لیکن اسے متبادل اہمیت کا حامل قرار نہیں دیا جا سکتا۔’
پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے ڈائریکٹر عمران خان کاکڑ نے بھی تاشقند اردو کو بتایا کہ ’وسطی ایشیا تک جانے والے ان نئے راستوں پر 70 فیصد اضافی اخراجات آتے ہیں جبکہ وقت بھی کافی زیادہ لگتا ہے۔’
‘ افغانستان کے راستے کسی کھیپ کو پہنچنے میں زیادہ سے زیادہ پانچ دن لگ جاتے تھے۔‘
دوسری وجہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’دستاویزی طریقہ کار اور لوگوں کے درمیان رابطہ کاری بھی افغانستان کے ساتھ کافی آسان ہے۔ پاکستانیوں کی افغانوں اور ان کے ذریعے آگے وسطی ایشیائی تاجروں کے ساتھ باآسانی بات چیت کے ذریعے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔‘
یہ تجارتی راہداریاں ایک ایسے وقت میں فعال ہوئی ہیں جب پاکستانی تاجروں کے پاس کوئی بھی متبادل راستہ موجود نہیں تھا۔ پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے سینئر نائب صدر ضیاء الحق سرحدی کہتے ہیں کہ ’وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کی بحالی اور نئی راہیں کھلنا پاکستان کے لیے معطل یا محدود صورتحال کے مقابلے میں بہت بہتر پوزیشن ہے۔‘
تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ ’ان نئے تجربات میں وقت کی سرمایہ کاری شامل ہے، جو کاروبار اور تاجروں کے لیے مشکلات کا باعث بنتی ہے۔ لہٰذا، افغانستان کا راستہ ثقافتی قربت اور جغرافیائی اہمیت کے لحاظ سے متبادل نہیں ہے۔‘
کوئٹہ چیمبر کے سابق عہدیدار اور تاجر بدرالدین اس حوالے سے قدرے مختلف موقف رکھتے ہیں۔ انہوں نے تاشقند اردو کو بتایا کہ ’تجارت معطل ہونے کی وجہ سے گزشتہ موسم میں گندم، آلو اور ٹماٹر جیسی فصلوں میں کسانوں کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ نتیجے کے طور پر اس سال گندم کی معیاری فصل نہیں دیکھی گئی۔ لہٰذا، فوڈ سکیورٹی کے لیے متبادل راستے وقت کی ضرورت تھے۔‘
’کیونکہ اس وقت پاکستان میں اخراجات کا سارا بوجھ صنعتوں کے اوپر ڈال دیا گیا ہے۔ اس پر حکومت کے جذباتی فیصلوں نے مارکیٹ تک رسائی بھی بند کر دی تھی، جس کا اثر مجموعی پیداوار پر بھی پڑا۔‘
بدرالدین سمجھتے ہیں کہ ایران کا راستہ افغانستان کے مقابلے میں آمد و رفت کی سہولت، انفراسٹرکچر، اور توانائی کے اخراجات میں کمی کے لحاظ سے بہتر ہے۔ اس کے علاوہ اس فیصلے میں دو طرفہ تجارت بھی شامل ہے۔ اس لیے حکومت نے اس موقع سے بہترین فائدہ اٹھایا ہے۔
ماہرینِ تجارت اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کی طرح پاکستان کو تمام ہمسایہ ممالک بشمول بھارت کے ساتھ بھی اپنی تجارتی گزرگاہوں کو بحال کرنا چاہیے تاکہ پاکستان کا سامان باآسانی مختلف منڈیوں تک پہنچ سکے اور اسی طرح ہماری ضروریات بھی پوری ہوں۔ سب نے متفقہ طور پر اس خیال کا اظہار کیا کہ ہر قسم کی سیاست اور تنازعات کو تجارت سے الگ رکھنا چاہیے۔