انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کی کال دی ہے، جس کا بنیادی مطالبہ جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی ہے۔
نیشنل کانفرنس کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج پارلیمان کے مانسون اجلاس کے پہلے دن کیا جائے گا، تاکہ مرکزی حکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکے کہ وہ جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دے۔
یہ معاملہ اگست 2019 کے فیصلوں سے جڑا ہے، جب انڈیا کی مرکزی حکومت نے آرٹیکل 370 کو غیر مؤثر کر دیا تھا۔ اس آرٹیکل کے تحت جموں و کشمیر کو انڈین آئین میں خصوصی حیثیت حاصل تھی۔ اسی وقت جموں و کشمیر کی پرانی ریاست کو دو یونین ٹیریٹریز، یعنی جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔
اس تبدیلی کے بعد جموں و کشمیر مکمل ریاست نہیں رہا، بلکہ ایک یونین ٹیریٹری بن گیا، جہاں منتخب اسمبلی تو موجود ہو سکتی ہے، لیکن کئی اہم انتظامی اختیارات مرکز اور لیفٹیننٹ گورنر کے پاس رہتے ہیں۔
عمر عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کا کہنا ہے کہ یہی اصل مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق منتخب حکومت کے پاس مکمل اختیارات نہیں، اور کئی اہم فیصلے راج بھون یا مرکز کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ عمر عبداللہ نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر جموں و کشمیر کو راج بھون سے ہی چلانا ہے تو پھر اسمبلی انتخابات کرانے کا مقصد کیا تھا۔
نیشنل کانفرنس کا مطالبہ ہے کہ جموں و کشمیر کو فوری طور پر مکمل ریاست کا درجہ واپس دیا جائے، منتخب حکومت کو اختیارات دیے جائیں، اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔
اس معاملے کا ایک قانونی پس منظر بھی ہے۔ دسمبر 2023 میں انڈین سپریم کورٹ نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا، تاہم عدالت نے جموں و کشمیر میں انتخابات کرانے اور ریاستی حیثیت کی بحالی کے معاملے پر بھی اہم آبزرویشنز دی تھیں۔ بعد میں ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق درخواستیں بھی عدالت میں زیرِ سماعت رہیں۔
مرکزی حکومت اور بی جے پی کا مؤقف رہا ہے کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت مناسب وقت پر بحال کی جائے گی، لیکن نیشنل کانفرنس کا کہنا ہے کہ مناسب وقت کی کوئی واضح تاریخ نہیں دی جا رہی۔
عمر عبداللہ نے حالیہ دنوں میں بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر دہلی میں احتجاج سے بھی ریاستی حیثیت بحال نہیں ہوتی تو کیا انہیں اس مطالبے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گھر کے باہر احتجاج کرنا چاہیے۔
اس احتجاج کی سیاسی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ جموں و کشمیر میں 2019 کے بعد پیدا ہونے والی نئی آئینی اور انتظامی صورتحال کے خلاف ایک منظم سیاسی مہم کا حصہ ہے۔
نیشنل کانفرنس یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ آرٹیکل 370 کی بحالی الگ بحث ہو سکتی ہے، لیکن کم از کم ریاستی حیثیت کی بحالی وہ وعدہ ہے جسے مرکز نے خود کئی بار تسلیم کیا ہے۔
دوسری طرف بی جے پی اس احتجاج کو سیاسی دباؤ کی کوشش قرار دیتی ہے اور نیشنل کانفرنس پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا الزام لگاتی ہے۔