او آئی سی کی جانب سے امریکی منصوبے کی مخالفت ، مصر کی تجویز پر عمل ہوگا

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پر ممکنہ قبضے اور وہاں کے رہائشیوں کو بے گھر کرنے کے مجوزہ منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے عرب لیگ کی جوابی تجویز کی باضابطہ طور پر منظوری دے دی ہے۔

او آئی سی نے عالمی برادری سے عرب لیگ کی اس علاقائی اقدام کی حمایت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 57 اسلامی ممالک پر مشتمل گروپ نے یہ فیصلہ سعودی عرب کے شہر جدہ میں ایک ہنگامی اجلاس میں کیا۔ یہ اجلاس قاہرہ میں عرب لیگ کی جانب سے غزہ سے متعلق منصوبے کی نقاب کشائی کے تین دن بعد منعقد ہوا۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں او آئی سی نے کہا کہ وہ غزہ کی جلد بحالی اور تعمیر نو کے منصوبے کو اپناتی ہے۔ مسلم دنیا کی نمائندگی کرنے والی اس تنظیم نے عالمی برادری اور بین الاقوامی اور علاقائی مالیاتی اداروں سے فوری طور پر اس منصوبے کے لیے ضروری تعاون فراہم کرنے پر زور دیا۔

ٹرمپ کا حالیہ بیان عالمی سطح پر غم و غصے کا باعث بنا، جس میں انہوں نے امریکہ کو غزہ پر قبضہ کرنے کرنے کا مشورہ دیا۔ ٹرمپ نے غزہ کے فلسطینی باشندوں کو مصر یا اردن منتقل کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔

مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے او آئی سی کی توثیق کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ اب امریکہ سمیت بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل کی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگلا قدم یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی فریقین کی طرف سے اس منصوبے کو اپنانا ہے۔ مصری تجویز، جس میں حماس کا ذکر نہیں، امریکہ اور اسرائیل دونوں پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں