حکومت کا محور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ہے، ٹیکس چھوٹ کا دور ختم ہو چکا، وزیر خزانہ پاکستان

پاکستان کےوفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کسی بھی قسم کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم شامل نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ، اب حکومت کا محور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور نظام کو زیادہ شفاف بنانا ہے، کیونکہ ٹیکس چھوٹ اور رعایتوں کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔

پارلیمانی کمیٹیوں نے پیٹرولیم مصنوعات پر کاربن لیوی عائد کرنے کی تجویز کو عوام پر بلاجواز بوجھ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ اگرچہ حکومت نے اعلیٰ پنشنز اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کی آمدن پر نئے ٹیکسز کی منظوری حاصل کر لی ہے، لیکن کاربن لیوی جیسے اقدامات شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔

کاربن لیوی پر بحث کے دوران سینیٹرز نے اس پر قانونی، ماحولیاتی اور مالیاتی اعتراضات اٹھائے۔ سینیٹر شیری رحمٰن نے زور دیا کہ کاربن ٹیکس اور کاربن لیوی میں فرق ہے، اور یہ اقدام فنانس بل کے ذریعے نافذ نہیں ہونا چاہیے بلکہ علیحدہ قانون سازی سے ہونا چاہیے۔ سینیٹر شبلی فراز اور محسن عزیز نے اس کو عوام پر اضافی بوجھ اور عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی قرار دیا۔

وزارت خزانہ نے بتایا کہ اگر کاربن لیوی نافذ کی گئی تو اس سے 45 ارب روپے حاصل ہو سکتے ہیں، جبکہ اگر اسے ٹیکس میں تبدیل کیا گیا تو وفاقی حکومت کو 18 ارب روپے ملیں گے، بقیہ رقم صوبوں میں جائے گی۔

اس کے علاوہ پارلیمانی کمیٹیوں نے بجلی کے سرچارج کی حد ختم کرنےاورچھوٹی گاڑیوں پر لیوی کی تجاویز بھی مسترد کر دی گئی۔ ایک کروڑ سے زائد سالانہ پنشن پر ٹیکس اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کی آمدن پر ٹیکس استثنیٰ ختم کر دیا گیا۔سولر مصنوعات پر سیلز ٹیکس 18 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی۔

اسٹامپ ایکٹ میں ترامیم پر مزید غور ملتوی کر دیا گیا کیونکہ اس میں ‘نان فائلر’ کی اصطلاح استعمال ہوئی جو اب قانونی طور پر موجود نہیں۔

کمیٹی کے مباحثے میں ٹیکس تعمیل کے فقدان پر شدید تحفظات سامنے آئے۔ ایف بی آر نے تجویز دی کہ غیر رجسٹرڈ افراد کے بینک اکاؤنٹس بند کیے جائیں اور غیر مطیع ٹیئر-1 ریٹیلرز کے یوٹیلیٹی کنکشنز بھی منقطع کیے جائیں۔

تاہم ایف بی آر نے اعتراف کیا کہ صرف 35 ہزار صنعتی یونٹس سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہیں جبکہ ملک میں تقریباً 3 لاکھ یونٹس ہیں۔ اس موقع پر بعض ارکان نے سخت اقدامات کی حمایت کی جبکہ دیگر نے اصلاحات میں نرمی اور مراعاتی پالیسی پر زور دیا۔

کمیٹی نے نیو انرجی وہیکل ایڈاپشن لیوی ایکٹ 2025 پر بھی غور کیا اور مؤثر حکمت عملی کی کمی اور چارجنگ اسٹیشنز کی عدم دستیابی پر تشویش ظاہر کی۔ اس پر بھی غور آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا گیا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں