امریکا کے سب سے بڑے شہر نیویارک میں میئر کے انتخاب کے لیے مہم اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں روایتی سیاست اور عوامی حمایت پر مبنی سوشل میڈیا مہم کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔ شہری چار نومبر کو ووٹ ڈالیں گے۔ تین امیدواروں کے درمیان یہ مقابلہ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
ڈیموکریٹ امیدوار ظہران ممدانی، سابق گورنر اور آزاد امیدوار اینڈریو کومو، اور ریپبلکن رہنما کرٹس سلیوا اس دوڑ میں شامل ہیں۔ نیویارک میں ہر چار سال بعد میئر کے انتخابات ہوتے ہیں اور کوئی بھی شخص زیادہ سے زیادہ دو مدتوں تک اس عہدے پر فائز رہ سکتا ہے۔ تاہم اس بار کا مقابلہ منفرد اس لیے ہے کہ پہلی مرتبہ ترقی پسند، روایت پسند اور قدامت پسند نظریات ایک ہی انتخاب میں آمنے سامنے ہیں۔
نیویارک امریکا کا سب سے گنجان آباد شہر ہے، جہاں جولائی 2024 تک آبادی تقریباً 85 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔
نیویارک کو دنیا کے سب سے زیادہ متنوع شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں کے 37 فیصد باشندے امریکا سے باہر پیدا ہوئے، جب کہ تقریباً نصف آبادی گھروں میں انگریزی کے علاوہ دیگر زبانیں بولتی ہے۔ اندازوں کے مطابق شہر میں 200 سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں اور تقریباً نصف کاروبار تارکینِ وطن کے ملکیت ہیں۔
2020 کی مردم شماری کے مطابق شہر کی آبادی میں 30 فیصد سفید فام، 28 فیصد ہسپانوی، 20 فیصد سیاہ فام اور تقریباً 16 فیصد ایشیائی باشندے شامل ہیں۔
نیویارک کی درمیانی عمر 38 سال ہے، جو قومی اوسط سے قدرے کم ہے۔ شہر کی آبادی میں خواتین کی تعداد مردوں سے کچھ زیادہ ہے۔ نوجوان طبقے خاص طور پر 25 سے 39 سال کی عمر کے افراد کا تناسب سب سے زیادہ ہے، جو شہر کے متحرک اور جدید طرزِ زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بار کے میئر انتخابات نیویارک کے لیے محض سیاسی نہیں بلکہ سماجی تبدیلی کا امتحان بھی ہیں۔ ایک طرف سوشل میڈیا پر مبنی عوامی مہم زور پکڑ رہی ہے، تو دوسری جانب روایتی سیاسی ڈھانچے اپنی گرفت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چار نومبر کو ووٹ ڈالنے والے نیویارک کے شہری اپنے شہر کا مستقبل کس کے سپرد کرتے ہیں۔