ازبکستان میں نئے تاشقند بین الاقوامی ایئرپورٹ کے منصوبے پر مقامی کمپنیوں کی شمولیت بڑھانے کے لیے روڈ شو کا انعقاد کیا گیا، جس میں 120 سے زائد مقامی کاروباری اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
تقریب کا اہتمام وزارتِ ٹرانسپورٹ، صنعتی تعاون و سرکاری خریداری ایجنسی اور لارسن اینڈ ٹوبرو نے مشترکہ طور پر کیا۔ شرکاء کو ایئرپورٹ منصوبے کی تکنیکی ضروریات، تعمیراتی کام کے دائرہ کار، درکار اشیا و خدمات اور ٹھیکوں سے متعلق شرائط کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
وزیر ٹرانسپورٹ الہام محمودکوف نے کہا کہ ملک میں ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے بڑے سرمایہ کاری منصوبوں پر کام جاری ہے اور ان منصوبوں میں مقامی صنعتوں کی شرکت حکومت کی ترجیح ہے۔
حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 9 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری حاصل کی جائے اور ٹرانسپورٹ خدمات کا حجم دوگنا کیا جائے۔
وزیر ٹرانسپورٹ کے مطابق نیا تاشقند ایئرپورٹ ایک تزویراتی اہمیت کا منصوبہ ہے، جو ازبکستان کی بین الاقوامی نقل و حمل اور لاجسٹکس کی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ خطے میں ایک اہم فضائی مرکز کے قیام اور عالمی ہوا بازی کے نظام میں ملک کی پوزیشن مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔
نیا ایئرپورٹ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تاشقند ریجن کے ارٹا چرچق اور کوئی چرچق اضلاع میں 1310 ہیکٹر رقبے پر تعمیر کیا جائے گا۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں تقریباً 2.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں مسافر ٹرمینل 2 لاکھ 8 ہزار مربع میٹر پر مشتمل ہوگا، جسے بعد میں 4 لاکھ مربع میٹر تک توسیع دی جائے گی۔ ایئرپورٹ کی سالانہ مسافر گنجائش بھی 2 کروڑ سے بڑھا کر 4 کروڑ 60 لاکھ تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔
ایئرپورٹ میں کارگو ٹرمینل، ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور، طیاروں کی مرمت کے لیے ہینگرز اور جدید نیوی گیشن و موسمیاتی نظام بھی تعمیر کیے جائیں گے۔
منصوبے کی تکمیل کے بعد ایئرپورٹ پر 204 چیک اِن کاؤنٹرز، فی گھنٹہ 68 پروازوں کی آمد و روانگی، 169 طیاروں کے لیے پارکنگ اور 45 مسافر بورڈنگ پلز کی سہولت موجود ہوگی۔
روڈ شو کے دوران مقامی کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت اور تکنیکی استعداد کا جائزہ بھی لیا گیا۔ منصوبے کے لیے ٹھیکیداروں کا انتخاب کھلے اور مسابقتی ٹینڈر کے ذریعے کیا جائے گا، جس میں تجربے، اہلیت، تکنیکی صلاحیت اور مقررہ تقاضوں پر پورا اترنے کو بنیادی معیار بنایا جائے گا۔