بالی وڈ کے باصلاحیت اداکار پراتیک گاندھی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ملک کے امیر ترین صنعتکار مکیش امبانی کی کمپنی میں 25 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ والی نوکری صرف اداکاری کے خواب کی خاطر چھوڑ دی تھی۔ پراتیک نے بتایا کہ 2016 میں اُن کی فلم ’رانگ سائیڈ راجو‘ کی ریلیز سے چند ہفتے قبل انہوں نے استعفیٰ دیا، حالانکہ اُس وقت اُن کے والد کینسر کے خلاف لڑ رہے تھے اور خاندان شدید مالی بحران سے گزر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا لیکن وہ اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنا چاہتے تھے۔ پراتیک گاندھی نے اپنے کیریئر کا آغاز 2006 میں ایک برٹش انڈین فلم سے کیا، اور 2007 میں ’68 پیجز‘ کے ذریعے بالی وڈ میں قدم رکھا۔ 2020 میں ہنسل مہتا کے مشہور ویب شو ’اسکیم 1992‘ نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا۔ اس سے قبل بھی وہ گجراتی سینما میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے تھے۔ اداکار نے یہ بھی بتایا کہ 2012-13 میں ان کی اہلیہ کو دماغی ٹیومر کی تشخیص ہوئی تھی، اور انہوں نے کئی مواقع قربان کر کے اپنی اہلیہ کی تیمارداری کی، جس کے بعد وہ مکمل صحت یاب ہو گئیں۔ پراتیک کی زندگی نہ صرف محنت اور قربانی کی کہانی ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ جذبہ اور عزم ہو تو انسان بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔