بھارتی ریاست مغربی بنگال میں مبینہ غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجرین کے خلاف سخت کریک ڈاؤن، سینکڑوں افراد سرحد پر منتقل

بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں مبینہ غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حکام نے سینکڑوں افراد کو بھارت-بنگلہ دیش سرحد پر منتقل کیا ہے جبکہ ہزاروں دیگر کو حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی ’’ڈِٹیکٹ، ڈیلیٹ اینڈ ڈیپورٹ‘‘ یعنی شناخت، گرفتاری اور ملک بدری کی پالیسی کے تحت کی جا رہی ہے، جس کا ہدف غیر دستاویزی تارکینِ وطن ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق مختلف علاقوں سے افراد کو حراست میں لے کر یا تو حراستی مراکز منتقل کیا جا رہا ہے یا سیدھاسرحدی علاقوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔

بھارتی ریاست مغربی بنگال، جہاں حال ہی میں نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کو سیاسی کامیابی ملی، نے مبینہ طور پر ایسے افراد کی شناخت کے لیے ایک وسیع مہم شروع کی ہے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر ملک میں مقیم ہیں۔ تاہم اس اقدام پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور بعض حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سرحدی علاقے ہاکم پور میں درجنوں خاندان اس وقت موجود ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق بنگلہ دیش سے بتایا جاتا ہے۔ متاثرہ افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں بہتر روزگار اور علاج کی تلاش میں بھارت آنا پڑا تھا، تاہم اب انہیں واپس بھیجا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کئی افراد کو عارضی مراکز میں رکھا گیا ہے جہاں ان کی بایومیٹرک تفصیلات بھی ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔ بھارتی حکام کے مطابق تقریباً 5 ہزار افراد کو اب تک بنگلہ دیش واپس بھیجا جا چکا ہے جبکہ مزید سینکڑوں افراد زیر حراست ہیں۔

دوسری جانب بنگلہ دیشی حکام نے اس عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بدری کے معاملات کو طے شدہ سفارتی طریقۂ کار کے تحت ہونا چاہیے۔ بنگلہ دیشی سرحدی فورس کے مطابق حالیہ دنوں میں متعدد افراد کو سرحد پار دھکیلنے کی کوششیں بھی روکی گئی ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس صورتحال کے باعث بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان سفارتی تعلقات پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ بعض انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس کارروائی کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ افراد کو قانونی مدد ملنی چاہیے۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی قانونی دائرۂ کار میں رہتے ہوئے کی جا رہی ہے، اور جن افراد کی شہریت کی تصدیق ہو جاتی ہے ان کے کیسز کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے۔

ہاکم پور میں موجود متاثرہ خاندانوں کی حالت زار بھی رپورٹ میں بیان کی گئی ہے، جہاں شدید گرمی، پانی کی کمی اور عارضی رہائش نے صورتحال کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ کئی خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ بہتر زندگی کی تلاش میں آئے تھے لیکن اب انہیں غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں