میٹا نے مختلف ایپس سے منسلک ہو کر خودکار طور پر کام انجام دینے والا نیا اے آئی ا یجنٹ ’میوز‘ متعارف کرا دیا

فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے امریکا میں اپنا نیا مصنوعی ذہانت پر مبنی اسسٹنٹ ’میوز‘ (Muse) متعارف کرا دیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ اے آئی ایجنٹ صارف کی اجازت سے اس کی جانب سے ای میل بھیجنے، سفر کی بکنگ کرنے، چیزیں فروخت کرنے اور بعض ادائیگیوں جیسے کام انجام دے سکتا ہے۔

میٹا کے مطابق میوز کو ای میل، کیلنڈر، ادائیگیوں، خریداری، صحت اور اسمارٹ ہوم سے متعلق مختلف ایپس کے ساتھ منسلک کیا جا سکتا ہے۔ صارف خود طے کرے گا کہ میوز کو کن ایپس تک رسائی دینی ہے اور وہ کسی بھی وقت یہ اجازت واپس لے سکے گا۔

ابتدائی طور پر یہ سروس صرف امریکا میں میوز کی الگ ایپ اور میٹا کی واٹس ایپ سروس کے ذریعے دستیاب ہوگی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں اسے میٹا کے اسمارٹ گلاسز میں بھی شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ بنیادی ورژن مفت ہوگا جبکہ زیادہ استعمال کے لیے 20 اور 100 ڈالر ماہانہ کے پیکیجز بھی پیش کیے جائیں گے۔

میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ اس ٹیکنالوجی کو اپنی ’پرسنل سپر انٹیلیجنس‘ حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دے رہے ہیں۔ کمپنی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے اور رواں سال اس کے اے آئی چپس اور دیگر انفراسٹرکچر پر اخراجات 130 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔

تاہم میوز کی سکیورٹی اور صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق میٹا کے اندرونی تجربات کے دوران بعض مواقع پر اے آئی ایجنٹ نے حساس معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کی جبکہ کچھ کاموں میں یہ غیر متوقع طور پر رک بھی گیا۔ میٹا کا کہنا ہے کہ سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے اس کی لانچ پہلے مؤخر کی گئی تھی اور اب مختلف حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔

میٹا کے مطابق بعض حساس اقدامات سے پہلے میوز صارف سے دوبارہ اجازت طلب کرے گا۔ صارفین اپنی گفتگو کو میٹا کے اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال ہونے سے روک بھی سکیں گے جبکہ کمپنی رواں سال میوز کا انکرپٹڈ ورژن متعارف کرانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں