پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ یمن میں جاری تنازع کے اثرات سعودی عرب تک پھیلنے کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان قائم مکہ دفاعی اتحاد فعال ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق معاہدے میں واضح ہے کہ ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت کو تمام رکن ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
خواجہ آصف نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے یہ بیان حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں اور تنصیبات پر حملوں کے بعد دیا۔ ان حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے تھے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں اور اگر یمن کی صورتحال سعودی عرب تک پھیلتی ہے تو معاہدے کی متعلقہ شقیں فعال ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان معاہدے کی شرائط کا پابند ہے اور ضرورت پڑنے پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔
خواجہ آصف کے مطابق یہ اتحاد جارحانہ نوعیت کا نہیں بلکہ مشترکہ دفاع کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت ہوتی ہے تو تینوں ممالک مشترکہ دفاع کے اصول کے تحت ردعمل دے سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ صورتحال قابو میں آ جائے گی اور مزید کشیدگی سے بچا جا سکے گا۔
خواجہ آصف نے پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ماضی میں بھی مشکل وقت میں سعودی عرب کی مدد کرتا رہا ہے اور سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی خودمختاری پاکستان کے لیے اہم ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں تعطل پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ سفارت کاری کے تمام راستے ابھی بند نہیں ہوئے اور بالواسطہ رابطے جاری ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے تنازع کے دونوں جانب موجود ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں، اس لیے اسلام آباد کی خواہش ہے کہ مسئلہ بات چیت اور امن کے ذریعے حل ہو۔
حوثیوں نے منگل کو سعودی عرب کے جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران پر حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کے بعد سعودی عرب نے یمن کے تعز اور مأرب سمیت مختلف علاقوں میں جوابی کارروائیاں کیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔