سرفراز احمد کو ہٹانے اور 7 کھلاڑیوں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ میرے لیے بھی حیران کن تھا: بابر اعظم

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ہیڈ کوچ سرفراز احمد کو ہٹانے اور 7 کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ ان کے لیے بھی حیران کن تھا۔

ایجبسٹن میں تیسرے اور آخری ٹیسٹ سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ انہیں بھی ان فیصلوں کے بارے میں بعد میں معلوم ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام فیصلے پاکستان کرکٹ بورڈ نے کیے، اس لیے ان کی بہتر وضاحت بھی بورڈ ہی کر سکتا ہے۔

لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو 194 رنز سے شکست ہوئی تھی، جس کے بعد سرفراز احمد کو ہیڈ کوچ اور عمر گل کو بولنگ کوچ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ان کی جگہ مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے کو ذمہ داریاں دی گئیں۔

اسی دوران امام الحق، محمد رضوان اور سلمان علی آغا سمیت 7 کھلاڑیوں کو سیریز کے دوران ہی اسکواڈ سے نکال کر وطن واپس بھیج دیا گیا، جبکہ ان کی جگہ 5 ایسے کھلاڑی بلائے گئے جنہوں نے ابھی تک ٹیسٹ کرکٹ میں ڈیبیو نہیں کیا تھا۔

بابر اعظم نے یہ بھی کہا کہ انہیں کھلاڑیوں کے نظم و ضبط اور رویے سے متعلق پی سی بی کی اندرونی تحقیقات کے بارے میں بھی پہلے سے کوئی علم نہیں تھا۔ ان کے مطابق بطور کپتان وہ بورڈ کے فیصلوں کے پابند ہیں اور انہی کے مطابق ٹیم کو آگے لے کر چلیں گے۔

تیسرے ٹیسٹ کے حوالے سے بابر اعظم نے کہا کہ اگرچہ پاکستان سیریز ہار چکا ہے لیکن آخری میچ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بڑا موقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کے پاس اب کھونے کے لیے کچھ نہیں، اس لیے کھلاڑی زیادہ آزادی کے ساتھ کھیل سکتے ہیں۔

بابر اعظم نے کہا کہ نئے کھلاڑیوں کی آمد سے ٹیم میں نئی توانائی آئی ہے۔ ان کے مطابق رضا اللہ اور عرفات منہاس جیسے نوجوان کھلاڑیوں کو ڈیبیو کا موقع مل سکتا ہے، جبکہ صائم ایوب کی بھی ٹیم میں واپسی کا امکان ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں