عالمی امن انڈیکس 2026: ازبکستان 30 درجے بہتری کے ساتھ دنیا کے پُرامن ترین ممالک میں شامل

ازبکستان نے عالمی امن اور سلامتی کے حوالے سے اپنی درجہ بندی میں نمایاں بہتری حاصل کرتے ہوئے عالمی امن انڈیکس 2026 میں 163 ممالک میں 37ویں پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی جانب سے جاری کیے گئے اس انڈیکس میں ازبکستان نے 1.726 اسکور حاصل کیا۔

ازبکستان کے لیے سب سے اہم پیش رفت یہ ہے کہ صرف ایک سال کے دوران اس کی عالمی درجہ بندی میں 30 درجے کی بہتری ہوئی ہے۔ 2025 میں ازبکستان 67ویں نمبر پر تھا، جو 2026 میں بڑھ کر 37ویں نمبر تک پہنچ گیا۔

وسطی ایشیا میں ازبکستان سب سے آگے ہے۔ خطے کے دیگر ممالک میں قازقستان 44ویں، تاجکستان 47ویں، کرغزستان 61ویں جبکہ ترکمانستان 66ویں نمبر پر ہے۔ اس طرح ازبکستان نے خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے اپنی برتری قائم کی ہے۔

عالمی امن انڈیکس میں کسی ملک کی پوزیشن صرف جنگ یا مسلح تنازعات کی بنیاد پر نہیں دیکھی جاتی بلکہ امن، سلامتی اور استحکام سے متعلق مختلف پہلوؤں کو مجموعی طور پر جانچا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں ازبکستان کی 37ویں پوزیشن ملک کے بین الاقوامی تشخص کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

اس کا ایک اہم اثر سیاحت کے شعبے پر بھی پڑ سکتا ہے۔ کسی بھی ملک کے لیے پُرامن اور محفوظ ماحول غیر ملکی سیاحوں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ ازبکستان پہلے ہی اپنی تاریخی اور ثقافتی ورثے کی وجہ سے عالمی سیاحوں کی توجہ حاصل کرتا ہے۔

سمرقند اور بخارا اپنی صدیوں پرانی تاریخ اور اسلامی و وسطی ایشیائی تہذیب کے آثار کے باعث اہم سیاحتی مراکز ہیں، جبکہ خیوا اپنی قدیم شہری ساخت اور منفرد ثقافتی ماحول کے لیے مشہور ہے۔ دوسری جانب دارالحکومت تاشقند ازبکستان کے جدید اور ترقی پذیر شہری تشخص کی نمائندگی کرتا ہے۔

یوں امن اور سلامتی کے حوالے سے بہتر ہوتی ہوئی عالمی درجہ بندی، ایک طرف ازبکستان کے بین الاقوامی مثبت تشخص کو مضبوط کرتی ہے تو دوسری جانب سیاحت، سرمایہ کاری اور عالمی سطح پر روابط کے لیے بھی سازگار ماحول پیدا کر سکتی ہے۔

ازبکستان کی 2025 میں 67ویں پوزیشن سے 2026 میں 37ویں نمبر تک ترقی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک نے خطے میں امن، استحکام اور محفوظ ماحول کے حوالے سے اپنی عالمی ساکھ بہتر بنانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں