ٹائم مینجمنٹ کا آخری اصول

ٹائم مینجمنٹ پر ہماری سیریز کے تین حصے پہلے ہی آ چکے ہیں، آج آخری حصہ اور اہم ترین اصول بھی بیان کرتے ہیں۔

کاموں کی ترجیحی لسٹ بنانا

اپنے کاموں کی فہرست بنا کے چھوٹے چھوٹے اور آسان کام پہلے نمٹا لیں۔

مشکل اور بڑے کام بعد میں تسلی سے کریں۔

یہ اصول طالب علموں کے لیے بہت کارگر ہے جب ہم اپنے سٹوڈنٹس کو ٹائم مینجمنٹ سکھاتے تھے تو یہ اصول لازمی سکھاتے تھے کہ ایک تو روز کا کام روز کریں،دوسری بات جب امتحان کی تیاری کریں تو جو ٹاپک پہلے سے تیار ہیں یا آسان ہیں یا چھوٹے ہیں، ان کو پہلے دہرائی کر کے پکا کر لیں اور ٹک کا نشان لگا لیں ۔اس کے بعد لمبے اور مشکل سوال یاد کریں۔ اس سے یہ ہو گا کہ ذہن کو اطمینان ہو گا کہ دس میں سے سات سوال تیار ہیں۔ اب باقی تین سوالوں کو بقایا وقت پہ تقسیم کر کے تیار کر لیں۔

بہت سے لوگ غلطی یہ کرتے ہیں کہ مشکل کام سے شروع کرتے ہیں، اس میں الجھتے ہیں ، زیادہ توانائی خرچ کرتے ہیں اور پھر گھبراہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ابھی تو اتنا کام باقی بچا ہوا ہے۔

یہی اصول پیپر دینے کا ہے کہ سب سے پہلے وہ سوال کریں جو اچھی طرح آتا ہو،چھوٹا اور آسان ہے۔ بڑے اور تفصیلی سوال بعد میں تسلی سے کریں ۔آپ کو معلوم ہو گا آپ کے پاس کتنا وقت باقی بچا ہے ۔اسی حساب سے آپ ان سوالوں کو حل کریں گے۔

یہی عمل آفس میں ہو سکتا ہے ۔عموما آفس میں کاموں کا شیڈیول یا ٹائم ٹیبل ہوتا ہے اس لیے زیادہ مشکل نہیں ہوتی لیکن جب بھی آپ کو خود روز مرہ کے کام کی درجہ بندی کرنی پڑے تو آپ اسی طرح درجہ بندی کر سکتے ہیں۔

ہماری ساری سوچ اور عمل ہمارے ذہن کی گیم ہے۔ ذہن کو جس قدر مطمئن رکھیں گے اس کی کارکردگی اسی قدر بہتر رہے گی ۔جہاں یہ الجھے گا وہاں یہ آپ کو بھی الجھا دے گا۔

اب آتے ہیں گھر کے کاموں کی طرف۔
اپنے حساب سے گھر کے کاموں کی درجہ بندی کریں۔ وہ کون سے کام ہیں جو آپ ہی کو کرنے ہیں ۔ان کاموں پہ کوئی سمجھوتہ نہیں ہے ۔یہ کام آپ ہی کو کرنے ہیں۔ باقی کاموں کے لیے مددگار رکھیں اور ان کی نگرانی کریں ۔مثلا بچوں کی تربیت، گھر کے بزرگوں کی دیکھ بھال، شوہر کا خیال، گھر کی بجٹنگ وغیرہ وغیرہ یہ خواتین کی ذمہ داری اور خواتین کے کام ہیں۔

اس کے بعد جھاڑو پوچا، صفائی، کپڑے دھونا، استری کرنا، کپڑے سینا، کھانا پکانا، برتن دھونا وغیرہ ، ان سب کاموں کے لیے ملازم رکھے جا سکتے ہیں۔

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ان کے یہاں ملازم رکھنے کا رواج نہیں ہے اور خواتین ہی رگڑا کھائیں گی۔ ان کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ ایک تو گھر کی خواتین کی ذمہ داری یہ سب کام کاج نہیں بلکہ اس سے زیادہ اہم بچے بزرگ اور شوہر کا خیال رکھنا ہے ۔اس لیے انہیں اس قدر ڈی ٹریک کر کے نا الجھائیں کہ وہ اصل ذمہ داری نا اٹھا سکیں اور ایسے کام جو کوئی اور کر سکتا ہے اس میں کھپتی رہیں۔

دوسری بات آپ کو یہ بھی معلوم ہونی چاہیے کہ کسی کا روز گار اپنے سے منسلک ضرور کرنا چاہیے ۔اس سے آپ کا روزگار چلتا رہتا ہے ۔اس لیے ملازم ضرور رکھیں۔ کسی کے روزگار کا باعث بنیں ان پہ کھلا ہاتھ رکھیں تاکہ آپ کو بھی کھلے ہاتھوں نوازا جائے۔

تیسری بات یہ ہے کہ خواتین کاموں کا ہوّا نا بنائیں۔ کام بھلے ملازمین کریں مگر ان کی نگرانی لازمی گھر کی خواتین ہی کریں ۔ملازموں پہ کام کاج چھوڑ کے بے فکر ہو کے نا بیٹھ جائیں۔ یاد رکھیں ملازم ہمیشہ مالک کے معیار پہ کام کرتے ہیں ورنہ مزاجا وہ مالک سے زیادہ بے فکرے ہوتے ہیں۔

مینجمنٹ کا مطلب ہے کام لینا اور آپ کو کام لینا آنا چاہیے۔ٹائم مینجمنٹ آپ کو اسی طرح کی سمارٹ نیس اور ورک مینجمنٹ سکھاتی ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں