امریکا اور ایران کے درمیان 4 ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دونوں ممالک نے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر اتفاق کیا ہے، جس پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں متوقع ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی فروری میں اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کے تنازع کے دوران ایرانی اہداف پر حملے کیے جس میں اعلیٰ فوجی و سیاسی رہنما بھی مارے گئے۔ اس کے بعد خطے میں جنگی صورتحال پیدا ہو گئی، جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑے۔
اتوار اور پیر کی درمیانی شب سب سے پہلے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایران-امریکا امن معاہدے کے طے پانے کا اعلان کیا۔
ٹرمپ کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے اور آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی بھی فوری طور پر ختم کی جا رہی ہے اور اب تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری رہ سکے گی۔
ایرانی سپریم قومی سلامتی کونسل کے مطابق طے پانے والے معاہدے کے تحت تمام محاذوں پر جنگی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر روک دی جائیں گی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس میں لبنان بھی شامل ہے، جہاں مارچ کے آغاز سے اسرائیلی حملے جاری تھے۔
کونسل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کے مطابق ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کر دی جائے گی، جبکہ آبنائے ہرمز کو عالمی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس پیش رفت کو مشرق وسطیٰ کے لیے ’’ایک نئے دور‘‘ کا آغاز قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی سفارتی کوششوں اور خلیجی ممالک کے تعاون نے اس معاہدے کو ممکن بنایا۔
معاہدے میں کیا شامل ہے؟
ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق مجوزہ معاہدہ 14 نکات پر مشتمل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس میں تمام محاذوں پر مستقل جنگ بندی، 30 روز کے اندر بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ایران کے اطراف سے امریکی فوجی موجودگی میں کمی، اور آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی شامل ہے۔
معاہدے کے تحت ایران کے تیل کی برآمدات پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی اور 60 روز کے اندر جوہری پروگرام سے متعلق حتمی معاہدے کی کوشش بھی شامل ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے تقریباً 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار واپسی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، تاہم ان تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
پاکستان اور قطر کا کردار
پاکستان اور قطر نے اس معاہدے کے لیے ثالثی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیوں کے مستقل خاتمے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں مختلف ملاقاتیں اور تکنیکی مذاکرات ہوں گے، جن کے بعد باضابطہ دستخط کیے جائیں گے۔
وزیراعظم نے قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان ممالک نے معاہدے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
قطر کی وزارت خارجہ نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں پائیدار امن اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
ایران کا مؤقف
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ جنگی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان جلد متوقع تھا اور اب دونوں ممالک کے درمیان حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی عمل شروع ہوگا۔
ان کے مطابق ایران اس دوران امریکی وعدوں پر عمل درآمد کا جائزہ لے گا، جس میں جنگی کارروائیوں کا خاتمہ، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور منجمد اثاثوں کی واپسی شامل ہیں۔
معاہدے پر دستخط کب ہوں گے؟
پاکستانی حکومت اور ایرانی حکام کے مطابق معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو جنیوا میں ہوں گے۔ اس سے قبل ہفتہ بھر تکنیکی مذاکرات اور مختلف سطحوں پر مشاورت جاری رہے گی۔