سوال نہ قاسم خان اور سلمان خان کا ہے، نہ ان کی آزادی رائے کا ہے اور نہ ہی ان کے انٹرویو کا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک سپورٹس چینل کو ایک بین الاقوامی میچ کے دوران مہمان ملک کے داخلی سیاسی فوجداری معاملات پر اس طرح کے انٹرویوز کرنے چاہئیں؟ کیا یہ اس کے نشریاتی حقوق کا حصہ ہے؟ کیا براڈ کاسٹر کے لئے کوئی ہیمانہ ا ور اصول ہوتے ہیں یا اسے اس بات کی آزادی ہے کہ کھڑے کھڑے سپورٹس کے نشرہاتی حقوق کو کرنٹ افیئرز میں بدل دے اور حالات حاضرہ کا ٹاک شو شروع کر دے؟ کیا کھیلوں کے میدان میں سیاست کا اکھاڑا سجانا ایک جائز عمل ہے؟ اور کیا یہ اصول اب قص ماضی ہو چکا کہ کھیلوں میں سیاست نہیں ہوگی؟ نیز یہ کہ ایسے بین الاقوامی میچ میں مہمان ٹیم کے حقوق کیا ہوتے ہیں اور کیا یہ رسم جائز ہے اور آئندہ کے لئے گوارا کر لی جائے کہ جس مہمان ملک کا بازو مروڑنا ہو میچوں کے وقفوں کے دوران بھی مروڑ لیا جائے۔
یہ انٹرویو اسی چینل نے اپنی معمول کی نیوز نشریات میں لیا ہوتا تو اس پر کوئی سوال نہ اٹھتا۔ لیکن جب آپ اسپورٹس نشریات کے نشریاتی حقوق لیتے ہیں تو پروفیشنلزم کا تقاضا بھی یہی ہے اور کھیلوں سے متعلقہ قوانین کا تقاضا بھی یہی ہے کہ پھر معمول کے سیاسی حالات حاضرہ کو کھیلوں سے الگ رکھا جائے اور کھیلوں کے نشریاتی حقوق کھیل کے میدان تک ہی محدود رہیں ۔
ماضی میں ہم نے دیکھا کہ عثمان خواجہ نے فلسطین کے حوالے سے ایک علامتی نشان لگا کر گراؤنڈ میں اترنے کی کوشش کی تو انہیں روک دیا گیا۔ ہم نے دیکھا کہ کھیلوں کے میدان میں سیاسی بینرز پر پابندی لگی رہی۔ ہم نے دیکھا کہ یہاں پر فلسطین کے پرچم تک گراؤنڈ میں لانے پر پابندی رہتی ہے۔ تو جو پابندی کھلاڑیوں پر ہے، جو پابندی تماشائیوں پر ہے، کیا وہ پابندی براڈکاسٹرز پر نہیں ہے؟
خالصتاً کھیلوں کے لئے جن کو نشریاتی حقوق دیے جاتے ہیں، کیا ساتھ ہی انہیں یہ لائسنس بھی دیا جاتا ہے کہ وہ اس میں اپنا سیاسی ایجنڈا بھی پورا کریں؟
پھر ایک سوال یہ بھی ہے کہ سکائی نیوز نے یہ انٹرویو خالصتاً فی سبیل اللہ یا انسانی ہمدردی کے تحت نشر کیا یا یہ ایک پیڈ کنٹینٹ تھا اور اس کے باقاعدہ پیسے وصول کئے گئے؟ بادی النظر میں جن معاشروں میں فری لنچ کا کوئی تصور نہیں ہوتا وہاں اسے پیڈ کنٹینٹ ہی سمجھا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اسپورٹس کے لئے مختص دورانیے میں کسی براڈکاسٹر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کھیلوں سے ہٹ کر کوئی سرگرمی اختیار کرے اور اس سے پیسے کمائے ؟ بالخصوص جبکہ وہ سرگرمی مہمان ملک کے داخلی امور میں براہ راست مداخلت بھی ہو۔
اس سوال پر بھی غور کرنا چاہئے کہ جب ایک ٹیم دوسرے ملک میں کھیلنے جاتی ہے تو کیا وہ مکمل طور پر میزبان ملک کےنشریاتی سونامی کے رحم و کرم پر ہوتی ہے یا یہ ایک باہمی نشریاتی معاملہ ہوتا ہے؟ میں میزبان ملک کے تمام چینلز کی بات نہیں کر رہا، میں صرف اس چینل کی بات کر رہا ہوں جو میزبان ملک اور مہمان ملک کے درمیان میچ کو دکھا رہا ہے اور ایک معاہدے کے تحت دکھا رہا ہے۔
اس میچ کے دو فریق ہیں، دونوں کی کچھ حساسیت ہیں، دونوں کی حساسیت کا ایک دائرہ کار ہے، دونوں کی کچھ حدود ہیں، دونوں کی کچھ ریڈ لائنز ہیں، پھر اسپورٹس کی کچھ اپنی ایتھکس ہیں، تو کیا وہ نشریاتی ادارہ جو یہ میچ دکھا رہا ہے اس بارے میں خود مختار ہے کہ وہ ان تمام باونڈریز کو پامال کر دے؟
مثلاً کل کو بنگلہ دیش کا بھارت کے ساتھ میچ ہوتا ہے تو کیا اس میچ کے دوران آپ حسینہ واجد کا انٹرویو شروع کر دیں گے؟ یا کل کو بھارت اور پاکستان کے درمیان میچ ہوتا ہے تو کیا پاکستان نے سکھوں کے انٹرویو نشر کرنے شروع کر دیے یا پاکستان نے یاسین ملک کی اہلیہ کو بٹھا کر ان کا انٹرویو لینا شروع کر دیا یا پاکستان نے بھارت کی آر ایس ایس کی درندگی اور بی جے پی کی صفاک ہندو شاہیزم کے خلاف ڈاکومنٹری دکھانے کا فیصلہ کر لیا تو کیا اسے جائز تصور کیا جائے گا؟ کیا مغربی اخلاقیات اس بات کو تسلیم کریں گی کہ فٹ بال میچ کے اختتام پر کوئی کھلاڑی فلسطینیووں کے حقوق کی بات شروع کر دے؟
یقینا اس کی اجازت نہیں ہو گی۔ انسانی حقوق کے جو پہلو مسلمات کے درجے میں میں آتے ہیں ، کشمیر ہے فلسطین ہے ، ہندتوا اور صہیونیت کی نسل پرستی ہے یہ ان پر بھی دوسرں کو بات نہیں کرنے دیں گے لیکن یہ خود اتنے بے باک ہیں کہ جو چاہیں کہہ دیں۔ یہ دوسروں کوفلسطینا ور کشمیر جیسے مظالم پر بھی بات نہ کرنے دیں اور خود یہ ایک متنازعہ داخلی معاملے پر گفتگو چروع کر دیتے ہیں ۔
یہ اصل میں وائٹ مینز برڈن کی رعونت ہے کہ سفید فام تہذیب جو چاہے کر لے ،اسے سب جچتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ دنیا میں انسانیت اور حقوق کے علمبردار یہی ہیں اور جو یہ کہہ دیں اسی کو سچ مانا جائے۔ ان کا یہ خیال بھی ہے کہ باقی دنیا کی کوئی حیثیت نہیں اور اسے ہانکنے کا حق سفید فاموں کو ہے۔
تحریک انصاف کا تو معاملہ اور ہے، وہ تو ان معاملات سے بے نیاز ہو چکی ہے۔ اس کا تو یہ کہنا ہے کہ خان نہیں ہے تو ہمیں ملک کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ یہ تو ایک جنون کی ایک کیفیت ہے۔ لیکن جب ایک غیر ملکی نشریاتی ادارہ ایسی حرکت کرتا ہے تو پھر تھوڑی دیر کے لئے پاکستانی بن کر سوچنا چاہئے۔ کیا تہذیب مغرب کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جب اور جہاں اور جس کا چاہے بازو مروڑ دے، کبھی حقوق انسانی کے نام پر مروڑ دے، کبھی کھیلوں کے نام پر مروڑ دے، یا کسی دن کسی نے تھوڑا سا جواب آں غزل بھی کہہ دیا تو اس کو بھی برداشت کر لیا جائے گا۔