بنگلہ دیش کے وزیرِ تعلیم ڈاکٹر اے این ایم احسان الحق ملون نے کہا ہے کہ تعلیم دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش اور چین کے تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ روابط کو ماضی میں مختلف ادوار میں آگے بڑھایا گیا اور موجودہ قیادت کے تحت انہیں مزید وسعت دینے کی توقع ہے۔
بنگلہ دیش کے سرکاری خبر رساں ادارے بی ایس ایس کے مطابق وزیرِ تعلیم نے یہ بات چین کے شہر گوانگ ژو میں منعقدہ چین-بنگلہ دیش تعلیمی تعاون ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سرکاری حکام، جامعات کے نمائندوں، تعلیمی ماہرین اور صنعتی شراکت داروں نے شرکت کی۔
تقریب میں چار اہم شعبوں پر توجہ دی گئی، جن میں بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے چین میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع، جامعات کے درمیان تعاون، مشترکہ تحقیق اور فنی تعلیم و مہارتوں کی ترقی شامل تھے۔
وزیراعظم کے مشیر اور وزیراعظم آفس کے ترجمان مہدی امین نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے بنگلہ دیش اور چین کے دیرینہ تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو نئی نسل تک منتقل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے چینی زبان سیکھنے کی بڑھتی اہمیت اور تیسری زبان کی تعلیم کے حکومتی تصور پر بھی زور دیا۔
چینی جامعات کے نمائندوں نے طلبہ کے تبادلوں، علمی تعاون، فنی تعلیم اور مہارتوں کی تربیت سے متعلق تجاویز پیش کیں۔ دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں کے درمیان مشترکہ منصوبوں اور تحقیقی روابط بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی۔
تقریب کی اہم پیش رفت چین-بنگلہ دیش انٹرنیشنل سروس سینٹر فار انڈسٹری-ایجوکیشن انٹیگریشن کا باضابطہ افتتاح تھا۔ یہ مرکز بنگلہ دیش اور چین کے تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے درمیان تعاون، بالخصوص فنی تعلیم، مہارتوں کی ترقی اور مشترکہ پروگراموں کو فروغ دے گا۔
تقریب کو تعلیم، مہارتوں کی ترقی، زبان سیکھنے اور عوامی روابط کے ذریعے بنگلہ دیش اور چین کے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔