امریکی امیگریشن پالیسی میں مزید سختی کے بعد برطانیہ اور جرمنی نے اپنے شہریوں کے لیے انتباہ جاری کر دیا، جس میں امریکی سرزمین پر داخلے سے متعلق ممکنہ گرفتاری اور ڈیپورٹیشن کے خطرے سے آگاہ کیا گیا ہے۔
برطانوی محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا میں امیگریشن قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ برطانوی حکام نے واضح کیا کہ امریکی قوانین کی خلاف ورزی پر برٹش پاسپورٹ ہولڈرز کو زیر حراست یا گرفتار کیا جا سکتا ہے، جبکہ ویزا یا آن ارائیول انٹری کی اجازت امریکا میں داخلے کی کوئی ضمانت نہیں۔
اسی طرح، جرمن حکام نے بھی اپنے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ امریکا میں سخت قوانین کے باعث ان کے شہریوں کو داخلے سے روکا جا سکتا ہے یا حراست میں لیا جا سکتا ہے۔ یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی جب تین جرمن شہریوں کو امریکا میں داخل ہونے سے روک کر حراست میں لیا گیا۔ جرمن حکام نے اس معاملے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد ایسے انتظامی احکامات پر دستخط کیے جن کے تحت سرحدی سیکیورٹی کو مزید سخت، ویزا جانچ کے عمل کو مزید سخت گیر اور غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کو بڑھا دیا گیا ہے۔ اس سخت پالیسی کے تحت متعدد افراد کو امریکا میں داخل ہونے سے روکا گیا یا حراست میں لیا گیا، جن میں مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں۔
اسی پالیسی کے تحت کینیڈا کی کاروباری شخصیت جیسمین مونی کو بھی امریکی حکام نے گرفتار کر لیا۔ مونی نے وینکوور سے یو ایس-میکسیکو بارڈر پر ویزا کے لیے درخواست دی تھی، لیکن انہیں بغیر کسی واضح وضاحت کے دو ہفتے مختلف حراستی مراکز میں گزارنے پڑے۔
امریکی امیگریشن پالیسی میں سختی سے یورپی ممالک میں تشویش بڑھ گئی ہے، اور ماہرین کے مطابق اس سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے درمیان سفارتی تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ کئی ممالک اپنی سفری وارننگز میں مزید سختی کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ ان کے شہریوں کو کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے محفوظ رکھا جا سکے۔