چین کی مشہور ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے نے ایک خاص قسم کا ذہین AI ماڈل (مصنوعی ذہانت کا نظام) تیار کیا ہے، جو خطرناک، سیاسی یا حکومت مخالف باتوں کو روکنے کی طاقت رکھتا ہے۔
یہ AI ماڈل اس وقت کام کرتا ہے جب کوئی شخص ایسی بات کرنا چاہے جو حکومت کے نظریے کے خلاف ہو، جیسے سیاست، احتجاج، یا کوئی ایسا معاملہ جو چین میں حساس سمجھا جاتا ہے۔ جیسے ہی کوئی شخص ایسی بات پوچھنے کی کوشش کرتا ہے، یہ AI ماڈل فوراً خاموش ہو جاتا ہے یا بات کا جواب ہی نہیں دیتا۔
یہ AI ماڈل چین کی ایک مشہور یونیورسٹی "ژی جیانگ یونیورسٹی” کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کو سیکھانے کے لیے ہواوے نے اپنی ہزار طاقتور چپس استعمال کیں، تاکہ یہ زیادہ سمجھدار اور تیز ہو جائے۔
یہ اصل میں ایک پہلے سے بنے ہوئے ماڈل "ڈیپ سیک” کا بدلا ہوا (محفوظ) ورژن ہے، جسے “ڈیپ سیک-آر1-سیف” کہا جا رہا ہے۔
ہواوے کا کہنا ہے کہ یہ نیا AI ماڈل عام سوالوں میں 99 فیصد تک خطرناک یا ناپسندیدہ باتوں کو روک لیتا ہے، یعنی اگر کوئی برا یا سیاسی سوال کرے، تو وہ اسے روک دے گا۔
لیکن اگر کوئی چالاکی سے بات کرے، جیسے کہانی، ڈرامہ یا اشاروں میں سوال کرے، تو پھر یہ AI ماڈل صرف 40 فیصد باتوں کو پہچان پاتا ہے۔ پھر بھی، یہ دوسرے چینی ماڈلز سے بہتر کام کر رہا ہے۔
چین کی حکومت کا قانون ہے کہ ہر نئی ٹیکنالوجی، جیسے ذہین AI ماڈل، کو "سوشلسٹ اقدار” کے مطابق ہونا چاہیے، یعنی حکومت کی سوچ اور اصولوں کے خلاف نہ جائے۔ اسی لیے یہ نیا ماڈل بنایا گیا تاکہ غلط یا حکومت مخالف باتوں کو پھیلنے سے پہلے ہی روکا جا سکے۔
یہ AI ماڈل ان جگہوں پر استعمال ہوگا جہاں بات چیت کو کنٹرول کرنا ضروری ہو، جیسے دفاتر، تعلیمی ادارے، یا موبائل ایپس۔ اس کا مقصد ہے کہ عوام صرف وہی معلومات حاصل کریں جو حکومت مناسب سمجھے۔
ہواوے نے یہ بھی بتایا کہ یہ نیا AI ماڈل اپنی پرانی شکل سے زیادہ محفوظ ہے، لیکن اس کی تیزی یا سمجھنے کی طاقت میں کوئی خاص کمی نہیں آئی۔ صرف 1 فیصد ہی فرق پڑا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل دوسرے مشہور چینی ماڈلز جیسے علی بابا کے ماڈل سے بھی زیادہ محفوظ ہے۔
ہواوے اس وقت شنگھائی میں اپنی سالانہ کانفرنس "ہواوے کنیکٹ” کر رہا ہے، جہاں وہ اپنے نئے چپس، طاقتور مشینوں اور مستقبل کے منصوبے دنیا کو دکھا رہا ہے۔ چین کی کوشش ہے کہ وہ ٹیکنالوجی میں دنیا سے آگے نکل جائے، لیکن ساتھ ساتھ اپنے اصولوں اور نظریات پر بھی قائم رہے